میڈیا اسٹیک ہولڈرز کا سندھ میں جرنلسٹس سیفٹی کمیشن جلد تشکیل دینے کا مطالبہ

103

کراچی: صحافی برادری اور میڈیا اسٹیک ہولڈرز نے سندھ اسمبلی کے ذریعہ گذشتہ ماہ منظور کیے گئے جرنلسٹ پروٹیکشن لاء کے تحت ایک آزاد کمیشن قائم کرنے کے لئے تمام ضابطوں کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صوبہ سندھ میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کے تصور کو ختم کیا جاسکے۔

بدھ کو کراچی پریس کلب (کے پی سی)، کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کے تمام دھڑوں، میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک، اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے نمائندوں سمیت سینئر صحافیوں اور میڈیا اسٹیک ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس پاکستان جرنلسٹ سیفٹی کولیشن (پی جے ایس سی) سندھ چیپٹر کے صدر عامر لطیف کی صدارت میں کراچی پریس کلب میں منعقد ہوا۔ یہ ہنگامی اجلاس گورنر سندھ عمران اسماعیل کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات اور اسے واپس سندھ اسمبلی بھیجنے پر غورو خوض اور اسکا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس میں 28 مئی کو سندھ اسمبلی کے متفقہ طور پر منظور کردہ جرنلسٹ سیفٹی قانون کے لئے مکمل اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا گیا۔

جمعرات کو جاری کئے ایک بیان میں کہا گیا کہ “تمام اسٹیک ہولڈرز صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے خطرات اور حملوں سے بچانے کے لئے خصوصی قانون بنانے کے لئے حکومت سندھ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں۔” شرکاء کی متفقہ رائے تھی کہ گورنر کے ذریعہ اٹھائے جانے والے اعتراضات کا بل میں پہلے ہی ازالہ کردیا گیا ہے۔تھرڈ پارٹی آڈٹ کے بارے میں گورنر کے اعتراض پر اجلاس کا موقف تھا کہ قانون کے مطابق ، وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے تحت پبلک فنڈز سے چلنے والا ہر ادارہ لازمی طور پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کا پابند ہے ۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار اور قواعد و ضوابط حکومت کے بجائے کمیشن ممبرزخود تیار کریں۔ اس سے کمیشن کو اسٹیک ہولڈرز میں زیادہ سے زیادہ قبولیت حاصل ہوگی ۔اور کمیشن ذیادہ آزاد اور خود مختار تصور ہو گا ۔۔ کمیشن جب اپنے قواعد کو وضع کرنے میں خود مختار ہو گا تو صوبائی حکومت پر جانبداری کا کوئی الزام نہیں آئے گا ۔ اسٹیک ہولڈرز نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے خلاف حملوں کے خطرات اور صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کے تصور میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، اس لئے حکومت سندھ کو فوری طور پرصحافیوں کے آذادانہ کام کرنے اور ان کی حفاظت کیلئے کمیشن کے قیام کے لئے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ صوبے میں امپیونٹی کے تصور کو ختم کیا جا سکے ۔ سزا سے استثنی کے تصور کو ختم کرنے کیلئے سیفٹی کے قانون میں پریوینشن پروٹیکشن اور پروسیکیوشن کو یقینی بنایا جائے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “ہم پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی سمیت سندھ اسمبلی کے تمام منتخب ممبروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے بل کی متفقہ طور پر حمایت کی۔”

اجلاس میں کے پی سی کے صدر فاضل جمیلی، سکریٹری کے یو جے فہیم صدیقی، صدر کے یو جے (دشتور) راشد عزیز، سیکرٹری موسیٰ کلیم، ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریڈم نیٹ ورک، اقبال خٹک، سینئر صحافی مظہر عباس، عبد الخالق علی، عافیہ سلام اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے ملکی نمائندے غلام مصطفی نے شرکت کی۔