سلیم مانڈوی والا، عبدالغنی مجید اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد

178

اسلام آباد: احتساب عدالت نے کڈنی ہلز ریفرنس میں سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جبکہ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں کڈ نی ہلز ریفرنس کیس کے حوالے سے سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے دوران سماعت پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا سمیت دیگرملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

عدالت کی جانب سے ملزمان کو فرد جرم کی کاپی بھی فراہم کی گئی جبکہ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب احتساب عدالت نے نیب کے گواہان نثار مگسی اور شیخ کمال کو بیانات قلمبند کرنےکیلیے آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے نوٹسز جاری کر دیےہیں جبکہ کیس کی سماعت 13جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

یاد رہے رواں سال جنوری میں کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں سلیم مانڈوی والا کو ملزم نامزد کیا گیا تھا جبکہ دیگر دوسرے ملزمان میں اعجاز ہارون، ندیم حکیم مانڈوی والا، عبدالقادر شیوانی، عبدالقیوم، عبدالغنی مجید اور مبینہ بے نامی طارق محمود شامل ہیں۔

جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل میں کہا گیا تھا کہ اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹس سے ملیں، اعجاز ہارون نے کڈنی ہلز فلک نما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں، سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو بیچنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی جبکہ انہوں نے پہلے ایک بے نامی کے نام پر پلاٹ خریدا بعد میں پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شئیرز خریدے، کڈنی ہلز پلاٹس کی فروخت کے بدلے میں رقم آئی ہی جعلی اکاؤنٹس سے تھی۔

احتساب عدالت میں پیش کردہ نیب ریفرنس کے مطابق سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14 کروڑ جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے، سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے رقم سے منگلا ویو کمپنی کے شیئر خریدے، یہ شیئرز بے نامی طارق محمود کے نام پر خریدے گئے۔