لاہور میں دھماکہ: 2 افراد جاں بحق، 17 زخمی

158

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہو گئی جبکہ 17 افراد زخمی ہیں، جن میں سے 5 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

تفصیلات کے مطابق  لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کے ایک گھر میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 17 افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے 5 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور 17 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے۔

ریسکیو کے مطابق دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے قریب واقع گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے کچھ راہ گیر بھی زخمی ہوئے ہیں جبکہ ریسکیو ٹیمیں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پر پہنچ گئیں، جنہوں نے امدادی کارروائی کا آغاز کر دیا اور زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا۔

دوسری جانب کئی زخمیوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں بھی اسپتال پہنچایا گیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کی بھاری نفری  بھی موقع پر پہنچ گئی ہے۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے دھماکے کے زخمی افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے جبکہ وزیرِاعلیٰ نے جناح اسپتال اور دیگر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

ایم ایس جناح اسپتال لاہور ڈاکٹر یحییٰ کے مطابق اسپتال کی ایمرجنسی عام مریضوں سے خالی کرا لی گئی ہے جبکہ زخمیوں میں 1 پولیس اہلکار، 1 خاتون اور 2 بچے بھی شامل ہیں اور شدید جلنے کے باعث 4 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ڈاکٹر یحییٰ نے مزید بتایا کہ زخمی پولیس اہل کار کی حالت تشویش ناک ہے، جس کے لیے خون کا انتظام کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہد خاتون کے مطابق ایک آدمی موٹر سائیکل کھڑی کر کے گیا جس کے کچھ دیر بعد موٹر سائیکل دھماکے سے پھٹ گئی جبکہ ڈی سی لاہور کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ سے ہی دھماکے کی نوعیت کا تعین ہوگا۔

خیال رہے جوہر ٹاؤن رہائشی اورتجارتی علاقہ ہے جہاں زیادہ تر کاروں کے شورومز ہیں اور دھماکے سے دو تین عمارتوں اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی کو دھماکے کے مقام کی طرف نہیں جانے دیا جا رہا  جبکہ سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، دھماکے کی نوعیت کا جلد پتہ چل جائے گا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن منصور امان نے بتایا کہ اعلیٰ پولیس حکام، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوع کا جائزہ لیا ہے، دھماکے سے ہر طرف ملبہ بکھرا ہوا ہے۔

 پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد جناح اسپتال پہنچ گئیں جہاں انہوں نے بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی اور اسپتال میں زخمیوں کو دی جانے والی طبی امداد کا جائزہ بھی لیا اور ضروری ہدایات جاری کیں۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے  جوہر ٹاؤن دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، شیخ رشید احمد نے دھماکے سے زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا بھی کی ہے۔

(ابتدائی معلومات ہیں،  مزید تفصیلات شامل جارہی ہیں)