سری لنکا : کورنا کی آڑ میں مسلمانوں پر تشدد ، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

200
سری لنکا: مسلمان اکثریتی علاقے میں پولیس نے شہریوں کو گھٹنوں کے بل بٹھا رکھا ہے

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشیل باچلیٹ نے سری لنکا میں مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔ جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل کے سینتالیسویں اجلاس سے خطاب کے دوران باچلیٹ نے سری لنکن حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی لہر پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے سری لنکا میں لاپتا شہریوں کی تلاش سے متعلق ادارے میں نئے افراد کے تقرر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سری لنکا میں فوج کی جانب سے کورونا وائرس کے نام پر عائد پابندیوںکی خلاف ورزی کے الزام میں مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد کا انکشاف ہوا تھا۔ خبررساں اداروں کے مطابق کورونا سے حفاظتی تدابیر پر عمل کرانے کے دوران متعصب فوج نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور مسلمانوں کی تذلیل کی تھی، جس کی وڈیو وائرل ہونے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فوجی اہل کاروں نے مسلمانوں کو سڑکوں پر ہاتھ کھڑے کرنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ دوسری وڈیو ایک قصبے کی ہے، جس میں مسلمان شہریوں کو سڑک پر گھسیٹا جارہا ہے۔ اس دوران متعصب فوجیوں نے مسلمانوں کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ وڈیو وائرل ہونے پرعوام میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی تھی۔