بھارت : مسلمان مبلغین پر مقدمہ درج اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم

167
نئی دہلی: مفتی جہانگیر قاسمی اور ڈاکٹر عمر گوتم کو اہل کار گرفتار کرکے لے جارہے ہیں

لکھنؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی حکومت نے گرفتار کیے گئے مسلمان مبلغین پر مقدمہ درج کرکے ان کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اترپردیش کی حکومت نے مسلم مبلغ ڈاکٹر محمد عمر گوتم اور مفتی قاضی جہانگیر عالم قاسمی پر دولت، ملازمت اور شادی وغیرہ کا لالچ دے کر سیکڑوں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرانے کا الزام عائد کیا تھا۔ شدت پسند وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے دونوں کے خلاف قومی سلامتی قانون کے تحت مقدمات درج کرنے اور اثاثوں کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ مطالعات اسلامی کے پروفیسر اختر الواسع نے اپنے ایک انٹریو میں کہا کہ اترپردیش میں جیسے جیسے الیکشن قریب آ رہے ہیں، مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عمر گوتم ایک عرصے سے اسلامی دعوت مرکز چلا رہے ہیں۔ حکومت نے آخر اسی وقت انہیں کیوں گرفتار کیا؟ اگر حکومت کو عمر گوتم کی مبینہ سرگرمیوں کا پہلے سے علم تھا تو پہلے کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ آئین کسی بھی مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کی اجازت دیتا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے اس حوالے سے کہاکہ زبردستی تبدیلی مذہب کرانے اور ملک دشمن عناصر سے تعلق جیسے الزامات بے بنیاد اور گھٹیا ہیں اور یہ عدالت میں ٹک نہیں پائیں گے۔ حال ہی میں سیکڑوں افراد اس طرح کے الزامات سے بری ہوچکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کسی بھی قیمت پر اپنی ڈوبتی کشتی کو پار لگانا چاہتی ہے اور اس کے لیے کوئی بھی غیر آئینی طریقہ اپنانے کے لیے تیار ہے۔