ایران کے 13ویں صدارتی انتخابات

201

ایرانی وزارت داخلہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلان میں کہا گیا ہے جمعہ کو ملک بھر میں ہونے والے 13ویں صدارتی انتخابات کے نتائج کے مطابق سید ابراہیم رئیسی 17,926,345 ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ جاری کردہ نتائج میں بتایا گیا ہے کہ محسن رضائی میر قاد نے 3,412,712 ووٹ حاصل کرکے دوسری، عبدالناصر ہمتی نے 2,427,201 ووٹوں کے ساتھ تیسری جب کہ سید امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی نے 999,718 ووٹ حاصل کرکے چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی 85 ملین آبادی میں سے 59 ملین افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور صدارتی انتخابات میں بالعموم سخت گیر اور اعتدال پسند امیدواران میں کانٹے کے مقابلوں کی وجہ سے صدارتی انتخابات میں کافی گہما گہمی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن حالیہ صدارتی انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چونکہ اسکروٹنی کے عمل کے دوران کئی نامی گرامی اصلاح پسند امیدواران کو انتخابی عمل سے ڈراپ کردیا گیا تھا اس لیے اس مرتبہ الیکشن میں وہ جوش وخروش نظر نہیں آیا جو ماضی میں نظر آتا رہا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات میں پولنگ کی شرح 48.80 فی صد رہی ہے۔ ایران میں ان دنوں ویسے توکئی ایشوز زیر بحث ہیں خاص کر جب سے نئی امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ معطل شدہ جوہری معاہدے پر از سر نو بات چیت کا آغاز کیا ہے تب سے دیگر مسائل کچھ پس منظر میں چلے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود حالیہ انتخابات کا سب سے اہم موضوع ایرانی معیشت کی بحالی اور کووڈ19کے اثرات سے نمٹنا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی وزارت داخلہ نے 25 مئی کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے گارڈین کونسل کی توثیق کے بعد 7 امید واران کو 18جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات لڑنے کے لیے اہل قرار دیا تھا جن میں سے تین امیدوارعلی رضا ذکانی اور سعید جلیلی، ابراہیم رئیسی کے حق میں جبکہ محسن مہر علی زادہ اصلاح پسند امیدوار عبد الناصر ہمتی کے حق میں دستبردارہوگئے تھے۔ یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہیں ہوگا کہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والے سید ابراہیم رئیسی کو چونکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی براہ راست حمایت حاصل ہے نیز ابراہیم رئیسی کا شمار چونکہ ایران کے اسلامی انقلاب کے پرجوش سپورٹرز اور اس انقلاب کے مرکزی کرداروں کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اس لیے اگر ایک طرف ان کی جیت کو ایران کے انقلاب پسند سخت گیر حلقوں میں ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جارہا ہے تو دوسری جانب مغربی ممالک بالخصوص امریکا اور اسرائیل نے ان کی کامیابی کو نہ صرف مسترد کیا ہے بلکہ انتخابی عمل کے شروع ہی میں ان کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈا مہم بھی زور وشور سے شروع کردی گئی تھی جس کا مرکزی نقطہ ان کو ایک سخت گیر اور انسانی حقوق مخالف راہنما کے طور پر پیش کرنا تھا۔
60 سالہ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی ایران کے تاریخی اور مذہبی شہر مشہد کے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ابھی پانچ سال کے تھے کہ والد کے سائے سے محروم ہوگئے تھے اس لیے وہ بچپن میں کتب بیچ کر اپنے تعلیمی اور گھریلو اخراجات پورے کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مشہد جبکہ اعلیٰ تعلیم قم کے تاریخی شہر سے حاصل کی۔ ان کا شمار اسلامی انقلاب کی جدوجہد کے ہراول دستے میں ہوتا ہے اسی لیے انقلاب کی فتح کے بعد جب شہید آیت اللہ بہشتی کو عدلیہ کا سربراہ مقررکیا گیا تو انہوں نے بھی عدلیہ کو جوائن کیا۔ آپ کو 1988 میں آپ کی قانونی مہارت اور انقلاب سے قریبی تعلق کی بنیاد پر مرحوم امام خمینی کے حکم پر ایک خصوصی عدالتی مشن کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ آپ 5 سال تک تہران کے پراسیکیوٹر، 10 سال جنرل انسپکٹر وریٹ کے سربراہ اور 10 سال عدلیہ کے فرسٹ ڈپٹی اور اٹارنی جنرل بھی رہے۔ 2006 سے آپ نے ماہرین کی اسمبلی میں جنوبی خراسان کے عوام کی نمائندگی کی اور 2018 میں اکثریتی ووٹوں کے ساتھ اس اسمبلی کے پہلے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔ ابراہیم رئیسی نے فقہی قانون میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعزاز کے ساتھ فقہ اور نجی قانون میں اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کا کامیاب دفاع کیا۔ آپ متعدد فقہی اور قانونی
کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ کو مارچ 2016 میں رہبر اعلیٰ علی خامنائی کی منظوری سے مشہد میں امام رضا کے مزار آستانہ قدس رضوی کے حفاظت، تعمیر وتوسیع، تزئین وآرائش اور مشہد اور ملک کے دیگر شہروں کے محروم علاقوں سے غربت اور پسماندگی کے خاتمے کے لیے قائم امام رضا (آستانہ قدس) فائونڈیشن کا متولی اور انتظامی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ آپ کی کوششوں سے نہ صرف اس ادارے کے مالی وسائل میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے بلکہ اس کے بعض معاشی منصوبوں سے غربت کی شرح میں کمی بھی محسوس کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ ایران میں یہ عہدہ اس فائونڈیشن کے اربوں ڈالر بجٹ کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ مارچ 2019 میں عدلیہ کے سربراہ کے طور پر تقرر کے بعد انہوں نے عدلیہ کے دروازے عام لوگوںکے لیے کھول کر اور صوبائی دورے شروع کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے عدالتی نظام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے الیکٹرونک سسٹم کا وسیع استعمال، سیاسی عدالتوں کے قیام، سیکورٹی سے متعلق مجرموں کے لیے عام معافی اور سائنسی، علمی اور طلبہ کے حلقوں میں شرکت کے ذریعے مختلف گروہوں کے ساتھ عوامی روابط کے ذریعے عدلیہ کے معاشرتی کردار کو ٹھوس انداز میں آگے بڑھایا۔ ابراہیم رئیسی اپنے آپ کو انتخابی مہم کے دوران چونکہ بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک بہترین چوائس کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں لہٰذا توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ بطور صدر ایرانی عوام کے لیے امید کی کرن ثابت ہوں گے۔