امریکا کو اڈے دیئے تو پاکستان میں پھر دہشت گردی بڑھے گی،وزیراعظم

144
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

واشنگٹن/اسلام آباد( آن لائن+اے پی پی ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں کارروائی کے لیے ہوائی اڈے دیے تو پاکستان میںپھر دہشت گردی بڑھے گی، امریکی ڈرون حملوں سے جنگ تو نہیں جیت پائے لیکن نفرت پیدا کردی۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جنگوں کے دوران پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا، 70 ہزار سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے، امریکا نے پاکستان کو 20 ارب ڈالر امداد فراہم کی جب کہ پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا، امریکا کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا، امریکی کوششوں میں شامل ہونے کے بعد پاکستان کو ایک ساتھی کی حیثیت سے نشانہ بنایا گیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ امریکا نے افغان سرحد پر قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا، شمالی وزیرستان میں 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ، جس سے اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا، ہم نے پہلے ہی بہت بھاری قیمت ادا کردی، اب مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔وزیر اعظم نے لکھا کہ ہم افغانستان پر کسی بھی عسکری غلبے کی مخالفت کریں گے جس کا نتیجہ صرف دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا کیوں کہ طالبان پورے ملک پر فتح حاصل نہیں کرسکتے اور کامیابی کے لیے انہیں کسی حکومت میں شامل ہونا پڑے گا،ماضی میں پاکستان نے متحارب افغان جماعتوں میں سے چناؤ کر کے غلطی کی، ہم نے غلطی سے سبق حاصل کیا،اب وہاں ہمارا کوئی پسندیدہ گروپ نہیں، افغانستان میں کسی بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے جسے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی فوجی انخلاء کے بعد افغانستان میں مزید تنازعات سے بچنا چاہتا ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے لیے امریکا کا شراکت دار بننے کو تیار ہے، ہم خانہ جنگی نہیں ، مذاکرات سے امن چاہتے ہیں، اگر مزید خانہ جنگی ہوئی تو سب کو خطرہ ہوگا۔عمران خان نے لکھا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے افغانستان میں مشترکہ مفادات ہیں، دونوں ممالک چاہتے ہیں افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ نہ بنے، تاریخ نے ثابت کیا کہ افغانستان کو کبھی بھی باہر سے قابو نہیں کیا جاسکتا، اگر امریکا طاقت ور فوج کے ساتھ افغانستان میں 20 سال میں نہیں جیت سکا، تو ہمارے ملک سے اڈوں کے ساتھ کیسے جیتے گا؟ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت بھی مذاکرات میں زیادہ نرمی کا مظاہرہ کرے گی، خطے میں امن و ترقی کے لیے ایک نیا علاقائی معاہدہ بھی ہوسکتا ہے ،افغانستان کے پڑوسی وعدہ کریں گے کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔