قومی اسمبلی ،حکومتی ارکان آپس میں الجھ پڑے دھکے اور دھمکیاں

166

اسلام آباد (آن لائن+آئی این پی+صباح نیوز) قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران حکومتی ارکان آپس میں الجھ پڑے۔ ایک دوسرے کو دھکے اور دھمکیاں دی گئیں، حکومتی بینچز پر تلخی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی رکن سیف الرحمن تقریر کررہے تھے کہ اس دوران نور عالم خان پی ٹی آئی ارکان سے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے ۔ اس پر سیف الرحمن نے انہیں کہا آپ میری تقریر کے دوران مداخلت نہ کریں میں ڈسٹرب ہورہا ہوں۔ اس پر نور عالم خان کو غصہ آگیا اور انہوں نے سیف الرحمن سے تلخ کلامی کرتے ہوئے کہا آپ تقریر کرکے دکھائیں۔ مائیک بند ہونے کے بعد پی ٹی آئی ارکان نور عالم خان اور سیف الرحمان آمنے سامنے آگئے ۔ ایک دوسرے کو دھکے دیے اور دھمکیاں دیں، حکومتی و اتحادی ارکان نے بیچ بچاؤ کرایا۔ اجلاس کے دوران حکومتی ارکان نور عالم اورمیجر(ر) طاہر صادق اپنی ہی حکومت کے خلاف برس پڑے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے احساس پروگرام بنایا اس کے بدلے بجلی یا پیٹرول سستا کر دیتے تو بہتر ہوتا، حکومت عوام کو بھکاری نہ بنائے، وزیر اعظم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو غیر منتخب مشیروں کو فارغ کردیں ، بتایاجائے کہ 3 ہزار ارب روپے سے زائد کا خسارہ کس طرح پورا ہوگا،کرپشن کنٹرول نہ کی گئی تو حکمران جماعت کے لیے آئندہ عام انتخابات جیتنا مشکل ہوجائے گا ۔میجر ( ر ) طاہر صادق نے کہا کہ غریبوں کا نام استعمال کیا گیا یہی غریب ان کو سمندر میں اٹھا کر پھینک دیں گے ، آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کو کرپشن کی وجہ سے شکست ملے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے ضلع میں کرپٹ افسران کی نشاندہی کی تھی اس کا نتیجہ یہ نکلا یہ انہیں دوسرے ضلعوں میں اچھی پوسٹوں پر لگا دیا گیا ۔میجر ( ر ) طاہر صادق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ تربیت سے محروم ہیں ان کی کلاس لگائیں اور ان نان ایجوکیٹڈ کو اس میں داخلہ دیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحفظ ختم نبوت ﷺ کے لیے ہماری جانیں مال اولاد قربان سب کچھ قربان ہیں فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے کے مطالبہ پر کہا جا رہا ہے کہ یورپ سے کاروبار متاثر ہو گا ۔ لعنت ہے ایسے کاروبار پر ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب اسمبلی کی طرح قومی اسمبلی میں بھی حضرت محمدﷺ آخری نبی کے کلمات لکھے جائیں ۔ان کی تقریر ختم ہوئی تو اپوزیشن کے تمام ارکان ان کی نشست پر آ گئے انہیں اپنا وزیر اعظم قرار دینے لگے ۔ گلے لگا لیا اور طاہر صادق کو مبارکباد دی ۔