پاکستان کشمیر پر روایتی موقف سے پیچھے ہٹا تو پڑوس میں امریکی و اسرائیلی اڈے بن جائینگے

87

کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) پاکستان کشمیر پر روایتی موقف سے پیچھے ہٹا تو پڑوس میں امریکی و اسرائیلی اڈے بن جائیںگے‘ پاک بھارت خفیہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو اب فوقیت حاصل نہیں‘ پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے ‘ ایل او سی پر طویل عرصے تک کشیدگی برداشت نہیں کر سکتا‘ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد اسلام آباد اپنی مغربی سرحد پر حالات کو بھی مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار سابق سفیر شمشاد احمد خان، ڈاکٹر شاہد مسعود اور دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا پاکستان اور بھارت کے خفیہ مذاکرات میں پاکستان کشمیر پر اپنے روایتی موقف سے انحراف کر رہا ہے؟ شمشاد احمد خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات 2019ء میں کشمیر میں بھارتی فوج پر ہونے والے خودکش حملے اور پاکستانی علاقوں میں بھارتی طیاروں کے داخل ہونے کے بعد سے مسلسل کشیدہ ہیں‘ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2019ء میں کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا تھا جس کا مقصد بھارت کی کشمیر پر گرفت کو مزید مضبوط بنانا ہے اور اب بھارت اس علاقے کا نام بھی تبدیل کر رہا ہے‘ اس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات میں بڑے پیمانے پر کمی کر دی تھی۔ شمشاد احمد خان کے مطابق بھارت کو معلوم ہے کہ اس سے قبل کہ امریکا مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالے وہ یہ ثابت کرے کہ وہ پہلے سے ہی پاکستان سے مذاکرات میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک سوال ہے کہ کیا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں تو یہ کہنا درست نہیں ہو گا کیونکہ یہ دونوں ممالک تعلقات میں بہتری کے بارے میں ضرور کہہ رہے ہیں مگر دباؤ نہیں ڈال رہے‘ جنوری میں متحدہ عرب امارات کی سہولت کاری سے دبئی میں ہونے والے مذاکراتی دور میں بھارتی خفیہ ایجنسی (را) اور آئی ایس آئی کے اہلکار شریک تھے تاہم اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ اور پاکستانی فوج نے اب تک کوئی ردعمل نہیں دیا‘ ایسی ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں‘ خاص طور پر بحران کے دوران لیکن کبھی عوامی طور پر ان ملاقاتوں کا اعتراف نہیں کیا گیا‘دونوں ملکوں کے پاس تعلقات کی بحالی کی وجوہات بھی ہیں‘ بھارت گزشتہ سال سے چین کے ساتھ فوجی تنازعے میں اُلجھا ہوا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ ایک نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتا۔ دوسری جانب پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ کشمیر کے علاقے میں طویل عرصے تک کشیدگی کو برداشت نہیں کر سکتا جبکہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پاکستان اپنی مغربی سرحد پر حالات کو بھی مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔ عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور بھارتی عہدیدار کسی تیسرے ملک میں پچھلے چند ماہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کر رہے ہیں‘ اس حوالے سے تھائی لینڈ، دبئی اور لندن میں بھی ملاقاتیں ہوچکی ہیں‘ پاکستان کشمیر پر اپنے روایتی موقف سے انحراف کررہا ہے؟کا جواب تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ ٹھیک ہے اس سلسلے میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ خبر رساں ادارے روئٹرز کو دہلی سے ان خفیہ مذاکرات کا علم رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ اس بات چیت میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ انٹیلی جنس حکام شریک تھے لیکن مسئلے میں اب تبدیلی ہو چکی ہے‘ ان مذاکرات میں کشمیر کو فوقیت حاصل نہیں ہے‘ پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ انٹیلی جنس حکام کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے خفیہ مذاکرات کا انکشاف عالمی اخبارات نے کیا تھا ۔ اس سلسلے میں نے بہت عرصے پہلے اپنے پروگرام میں بتا دیا تھا کہ ہماری حکومت کو چینی حکومت نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کو بھول کر آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کی تفصیلات ریاست کے پاس ہیں اور اس نے اس سلسلے میں فیصلہ بھی کر رکھا ہوگا‘ کشمیر کے ایک بڑے حصے پر اب چین کا قبضہ ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ چینی حکومت سے اس سلسلے میں مدد لی جائے۔ مذاکرات کا یہ دور رواں سال جنوری میں دبئی میں ہوا۔ پاکستان کشمیر پر اپنے روایتی موقف سے منحرف ہوا تو پاکستان کے پڑوس میں امریکی اور اسرائیلی اڈے بن جائیں گے اور اس کا نقصان پاکستان کو ہو گا۔