آئی اایم ایف کیلئے پوری قوم کو گروی نہیں رکھ سکتے ،شاہ محمود قریشی

65

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے لیے پوری قوم کا مستقبل گروی نہیں رکھ سکتے، افغانستان میں داخلی صورتحال تشویشناک ہے، اس وقت وہاں مذاکرات پر کوئی اتفاق دکھائی نہیں دیتا، طالبان سے تعلقات تعطل کا شکار ہیں تو یہ صورتحال پریشان کن ہے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارتی حکومت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات پر، دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کی رائے لینے کیلیے’’آزادانہ ریفرنڈم‘‘ منعقد کرائے۔افغانستان کی داخلی صورت حال تشویشناک ہے ، وہاں کوئی ربط اور اتحاد دکھائی نہیں دیتا،ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا نکتۂ نظر سن کر میری پریشانی میں اضافہ ہوا۔منگل کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5اگست 2019 کے اقدامات کے حوالے سے ریفرنڈم کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں اگر دنیا بھر کے کشمیری ان یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیں تو ہندوستان کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری ترکی میں افغان اعلیٰ سطحی مفاہمتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات ہوئی،ان کا نکتہ نظر سن کر میری پریشانی میں اضافہ ہوا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کی داخلی صورت حال تشویشناک ہے، وہاں کوئی ربط اور اتحاد دکھائی نہیں دیتا،مذاکرات کیسے کرنے ہیں اس پر بھی اتفاق نہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے 60 فیصد انخلاء کے بعد بھی اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار رہتے ہیں تو یہ امر تشویش کا باعث ہے۔ایف اے ٹی ایف سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ “گرے لسٹ “کا تحفہ بھی ہمیں مسلم لیگ (ن) نے دیا،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب اقتدار میں آئی تو پاکستان گرے لسٹ میں جا چکا تھا،ہم ان مضمرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔منگل کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا میری اطلاع کے مطابق بھارتی حکام کی افغان طالبان سے ملاقات نہیں ہوئی، تاہم بھارتی وزیر خارجہ نے ملاقات کی کوشش ضرور کی ہے، افغان طالبان اور بھارتی حکام کی ملاقات کی کوئی اطلاعات نہیں، لیکن قابل غور بات ہے کہ بھارتی حکام افغان طالبان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔شاہ محمود نے بتایا کہ چینی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے، اس دورے سے متعلق ہماری تیاریاں جاری ہیں، کرونا کی صورت حال واضح ہونے کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا، یہ بھی درست ہے کہ روس کے ساتھ بھی قربتیں بڑھ رہی ہیں، پاکستان، ایران، روس گیس پائپ لائن معاہدہ ہو گیا ہے، اس کی گرانڈ بریکنگ تقریب کے لیے بھی تیاریاں جاری ہیں، روس اور پاکستان دونوں جگہوں پر بہترین تقریب ہوگی۔ ترکی کے دورے کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی تھی، روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے دورہ پاکستان سے متعلق بھی تیاریاں کر رہے ہیں۔