جرمنی میں جاسوسی کے الزام پر روسی سائنسدان گرفتار

188

برلن: جرمنی میں پولیس اہلکاروں نے جرمن یونیورسٹی میں کام کرنے والے روسی سائنسدان کو ماسکو کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جبکہ گرفتار ریسرچ اسسٹنٹ کو جج کے روبرو پیش کردیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز وفاقی پراسیکیوٹر نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ملزم جس کی شناخت صرف النر این نام سے کی گئی ہے، کو جمعے کو روس کی خفیہ ایجنسی کےلیے کام کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق النر این ایک جرمن یونیورسٹی جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے نیچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈیپارٹمنٹ میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔

آگسبرگ یونیورسٹی کی ترجمان نے رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہےکہ ملزم وہاں کام کر رہے تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے ان کی ملازمت کی جگہ کی تلاشی لی گئی، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

جرمنی کے تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ملزم نے روس کی خفیہ ایجنسی کے اراکین سے اکتوبر 2020 اور رواں مہینے کے درمیان کم از کم تین بار ملاقات کی ہے جبکہ اس دوران ایک دو موقعوں پر انہوں نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کی ڈومین سے بھی معلومات آگے پہنچائیں ہیں۔

پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم کو جج کے روبرو پیش کیا گیا تھا، جس پر انہیں مزید تحویل میں رکھنے کا حکم سنایا گیا ہے۔

دوسری جانب  جرمنی کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار بلڈ نے ملزم کی النر ناگیو کے نام سے شناخت کی ہے اور ان کی پروفائل یونیورسٹی آف آگسبرگ کی ویب سائٹ پر نظر نہیں آ رہی تاہم لنکڈ ان پر ان کے نام سے ایک غیرتصدیق شدہ اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ وہ سنہ 2013 میں بطور ریسرچ انجینیئر روس کے بیکوو انسٹیٹیوٹ آف میٹل ارجی میں کر رہے تھے اور پھر سنہ 2016 میں آگسبرگ کے فران ہوفر انسٹیٹیوٹ میں انٹرن شپ کے لیے جرمنی چلے گئے۔

واضح رہے اس سے قبل اٹلی نے بھی ماسکو پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا جب پولیس نے نیوی کپتان کو روس کے سفارتخانے کے عہدیدار کو خفیہ دستاویزات دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ جرمنی ستمبر ہونے والے عام انتخابات میں روس کی گمراہ کن معلومات کا نشانہ بن سکتا ہے جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔