میرپورخاص،سول اسپتال میں جان بچانے والی ادویات ناپید

61

میرپورخاص(نمائندہ جسارت) سول اسپتال میرپورخاص آنے والے مریضوں کو علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے ریفر سینٹر بن گیا ، کروڑوں کا بجٹ رکھنے والے اسپتال میں آنے والے مریضوں کیلیے سرنج اور جان بچانے والی ادویات تک موجود نہیں ہیں، ایمرجنسی میں طبی امداد نہ ملنے کے باعث کئی مریض اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں، سول اسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک سو سے زائد ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملے کی پوسٹیں خالی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سول اسپتال میرپورخاص جو کہ ماضی میں پانچ اضلاع کے عوام کو علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کر رہا تھا ان دنوں آنے والے مریضوں کیلیے مذبحہ کا منظر پیش کر رہا ہے اور کروڑوں روپے کے فنڈز رکھنے والے اسپتال میں آنے والے مریضوں کیلیے سرنج اور جان بچانے والے ادویات تک موجود تک نہیں ہیں اور آنے والے مریضوں کے ورثا ان کی نعشیں لے جانے لگے۔ سول اسپتال میں ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں کیلیے سرنج اور ضروری ادویات تک موجود نہیں ہیں پانچ اضلاع کے عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے والے اسپتال میں تقریباً پونے دو سو ماہر امراض ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملے کی پوسٹیں گزشتہ کئی سالوں سے خالی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندے ووٹ لینے تو آجاتے ہیں لیکن ڈویژنل اسپتال میں سرنج، جان بچانے والی ادویات، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملے کی پوسٹیں پر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر صحت اور متعلقہ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ سول اسپتال میں ادویات، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملے کی کمی کو جلد پورا کر کے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔