کوئٹہ: 17 اپوزیشن ارکان نے بجلی گھرتھانے میں گرفتاری دے دی

192

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں دو روز قبل ہنگامہ آرائی کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جواب میں ارکان اسمبلی نے بھی نئی حکمت عملی اپناتے  ہوئے گرفتاری کا فیصلہ کیا ہے اور گرفتاری کے لئے بجلی گھرتھانے پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں قائد حزب اختلاف سمیت 17 اپوزیشن ارکان نے گرفتاری دے دی ہے جبکہ مولانا عبدالواسع کا کہناتھاکہ یہ لوگ سیاست جانتے ہیں نہ جمہوریت، کسی کے سامنے جھکے ہیں نہ جھکیں گے اور پر امن احتجاج جاری رکھیں گے۔

خیال رہے اپوزیشن ارکان نے بجلی روڈ تھانہ میں گرفتاری پیش کی ہے اور ایف آئی آر میں نامزد 17 ارکان نے گرفتاری دی ہے، جن میں بی این پی سے اختر حسین لانگو، میر حمل کلمتی، بابو رحیم مینگل، اکبر مینگل، ملک نصیر شاہوانی، احمد نواز، شکیلہ نوید دہوار، زینت شاہوانی، ٹائٹس جانسن شامل ہیں۔ جمعیت علما اسلام سے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ، زابد ریکی، یونس زہری، اصغر ترین، نواز احمد کاکڑ، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے نصر اللہ گرفتاری پیش کرنے والوں میں شامل ہیں ۔

دوسری جانب  وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت حکومتی و اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں اسپیکر عبدالقدوس بزنجو پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، اسپیکر اور اپوزیشن کے معاملے کو پارٹی سطح پر بھی بات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ حکومتی پارلیمانی لیڈرز کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کے ذمہ دار اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو ہیں۔

حکومتی نمائندوں کا کہناتھا کہ اسپیکر اپنی ذمہ داری ادا کرتے تو یہ نوبت نہ آتی جبکہ وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے رویے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے اور ایوان کی بالادستی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

یاد رہے بلوچستان اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس کی ایف آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن اركان سمیت 200 سے250 بلوائیوں نے راستے میں كیمپ لگا كرركاوٹ پیدا کی اور لاؤڈ اسپیكر سے اعلانات كیے گئے کہ كسی بھی طرح بجٹ اجلاس  کو روک کر  اسمبلی كا گھیراؤ كرنا ہے، بعد ازاں ان افراد نے اسمبلی كے گیٹ بند كرکے پولیس كو دھکا دینا شروع کردیا، تاہم پولیس نے صبر و استقامت كا مظاہرہ کرتے ہوئے امن عامہ كو برقرار ركھنے كی كوشش كی۔

پولیس نے مظاہرین کو آگاہ کیا کہ مجمع لگا کر كورونا وائرس كے پھیلاؤ كا سبب نہ بنیں اور دہشت گردی كا بھی خطرہ ہے،مگر اپوزیشن کے اراكین اسمبلی اور بلوائیوں نے پولیس کی ایک نہ سنی اور مشتعل ہوکر پولیس كے ساتھ جھگڑنا شروع کردیا اور پولیس اہلكاروں بہادر خان، محمد نذیر، عبدالمالک، علاؤ الدین اورسلیم شاہ كو تشدد کرکے شدید زخمی كردیا اور ان کی وردی پھاڑدی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے اراکین پر بھی حملہ کیا اور دفعہ 144كی خلاف ورزی كركے كورونا وائرس كے پھیلاؤ کا سبب بھی بنے، لہذا ان كے كے خلاف مقدمہ درج كیا گیا ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج كرنے كے بعد محمد بلال كو تفتیشی افسر مقرر كردیا ہے۔