افغانستان میں کشیدگی بڑھ گئی،وزیردفاع داخلہ اور آرمی چیف تبدیل ،امن مذاکرات پر قائم ہیں ،طالبان

222

کابل ( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر وزیر دفاع ، وزیر داخلہ اورآرمی چیفکو تبدیل کردیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ لڑائی میں تیزی سے اضافے پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔صدارتی محل کی جانب سے ان تبدیلیوں کا اعلان ملک کے 34 میں سے 28 صوبوں میں طالبان کے ساتھ سیکورٹی فورسز کی لڑائی کے دوران زیر قبضہ علاقوں سے محرومی کے بعد کیا گیا ہے۔افغان وزیر دفاع اسد اللہ خالد کو ہٹا کر ان کی جگہ بسم اللہ خان محمدی کو عبوری وزیر مقرر کیا گیا ہے، جو طویل علالت کے بعد حال میں وطن واپس لوٹے ہیں۔نئے وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی سوویت یونین کے خلاف جنگ میں احمد شاہ مسعود کے سینئر کمانڈر تھے، وہ فوج سے متعلق وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں، اس کے علاوہ سابق صدر حامد کرزئی کی حکومت میں آرمی چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ اشرف غنی نے حیات اللہ حیات کی جگہ عبدالستار مرزا کوال کو وزیرداخلہ مقرر کر دیا ہے۔جنرل ولی محمد احمدزئی کو افغانستان کا نیا چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کیا گیا ہے، جو جنرل یاسین ضیا کی جگہ لیں گے۔سیکورٹی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ 2 روز قبل ہی شمالی صوبے فریاب میں طالبان کے ساتھ لڑائی میں افغان اسپیشل فورسز کے 24 ارکان ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز صوبے میں طالبان کی جانب سے قبضہ کیے گے اضلاع کو واپس لینے کے لیے کارروائی کر رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق طالبان نے یکم مئی سے امریکی فوج کے انخلا کے آغاز سے اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے مہینہ بھر کی مہم شروع کر رکھی ہے جبکہ امریکی فوج نے اپنی متعدد بیسز خالی کرکے افغان فوج کے حوالے کردی ہیں۔امریکا نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک فوج کا انخلا مکمل ہوگا اور جب سے طالبان نے تقریباً 30 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سیکورٹی عہدیدار نے کہا کہ طالبان نے حالیہ ہفتوں میں شدید لڑائی کو پھیلا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں افغان سیکورٹی فورسز اور عوام کا بھاری جانی نقصان ہو رہا ہے۔افغان حکومت کے سینئر عہدیداروں کے مطابق ہلاکتوں میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔دوسری جانب افغان طالبان کے سیاسی دفترکے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ امن مذاکرات پر قائم ہیں، مذاکرات میں ہماری بھرپور شرکت اور ہماری طرف سے اس کی حمایت اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ہم افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان ملک میں حقیقی اسلامی نظام چاہتے ہیں جو ثقافتی روایات اور مذہبی قوانین کے مطابق خواتین کے حقوق کے لیے شرائط فراہم کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک حقیقی اسلامی نظام افغانوں کے تمام مسائل کے حل کابہترین ذریعہ ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ طالبان خواتین کو تحفظ فراہم کریں گے اور سفارت کار اور این جی اوز بھی افغانستان میں محفوظ طریقے سے کام کرسکیں گے۔ملاعبدالغنی برادر نے یہ بھی کہا کہ ہم اسلام اور افغان معاشرے کی عظیم روایات کی روشنی میں افغان مرد و خواتین کو حقوق دینے کے اپنے وعدے پر قائم ہیں۔