ایوان اور آئینی ادارے میں عدم اعتماد پر تشویش ہے، شیری رحمان

71

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پارلیمان اور آئینی ادارے کے بیچ بڑھتے ہوئے عدم اعتماد پر تشویش ہے، الیکشن کمیشن نے 72 حکومتی ترامیم میں 45 پر مختلف اعتراضات اٹھائے ہیں، الیکشن کمیشن نے 15 ترامیم کو آئین کے متضاد جب 5 کو الیکشن ایکٹ 2017 کے متضاد کہا ہے، شیری رحمان نے کہا کہ انتخابات کرانے والے ادارے نے آپ کی ترامیم کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے، اداروں کے بیچ خلا اور عدم اعتماد کے ملک پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،حکومت کو الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کے اعتراضات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس نہایت ہی اہم اور سنجیدہ معالے کی طرف حکومت کی کوئی توجہ نہیں،حکومت کی ساری توجہ گالم گلوچ پر ہے، حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔ حکومت کی ترامیم صرف 2023 ءالیکشن جیتنے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہیں،انتخاباتی اصلاحات ایک الیکشن نہیں بلکہ صدیوں کے لیے کیے جاتے ہیں۔