ایمنسٹی انٹر نیشنل کا ابراہیم رئیسی کیخلاف تفتیش کا مطالبہ

161
تہران: حسن روحانی اور نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کررہے ہیں

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ نومنتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق تفتیش ہونا چاہیے۔ ایمنسٹی نے الزام عائد کیا کہ رئیسی مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جس کے خلاف تشدد، جبری گمشدگیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تفتیش ہونا چاہیے تھی، اسے صدر بنا دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی نے الزام عائد کیا کہ رئیسی 1988ء میں بطور نائب مستغیث ملک میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے لیے بنائے گئے ڈیتھ کمیشن کے رکن تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ ابراہیم رئیسی کی جانب سے ایران میں مرتکب جرائم کے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ایک غیر جانب دار لائحہ عمل بنایا جائے ۔ تنظیم کے مطابق رئیسی نے ایران میں 2019ء کے احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکڑوں خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی بھی حمایت کی تھی۔ جب کہ عدلیہ کی سربراہی کی مدت میں رئیسی نے انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی میں صدارتی انتخابات کا اجرا گھٹن کی فضا میں ہوا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے اعلان کے مطابق ابراہیم رئیسی نے کل ووٹوں میں سے 62فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں، جن کی تعداد 1 کروڑ 78 لاکھ بنتی ہے۔ ملک میں رجسٹرڈ کل 5کروڑ 90لاکھ ووٹروں میں سے 2کروڑ 80لاکھ نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ رئیسی کے حریف اور اعتدال پسند صدارتی امیدوار عبدالناصر ہمتی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے رئیسی کو فتح کی مبارک باد دی۔