گرین لائن منصوبے کا تعمیراتی سامان چوری اور برباد ہونے کا انکشاف

139

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) اربوں روپے کی لاگت سے بنے کراچی گرین لائن منصوبے کو برباد کیا جا رہا ہے‘ گرین لائن بس اسٹیشنز کی تعمیر کے لیے منگوائے گئے الیکٹرونک سامان کی چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ 22 بس اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے منگوایا گیا سامان جس میں پاور کیبل، موٹریں، ایلومینیم شیٹس،کرسیاں، ایلیویٹرز اور دھاتی چادریں چوری ہونے کی وارداتوں میں اضافے کے باعث ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہے۔ کراچی میں گرین لائن بس منصوبہ آئے روز کسی نہ کسی آزمائش کا شکار ہے‘ پہلے بسیں چلانے کے معاملے پر وفاق اور حکومت سندھ کے مابین اختلافات کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا تو اب گرین لائن بس منصوبے کے اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے منگوایا گیا سامان چوری ہونے کی وارداتیں شروع ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے منصوبہ رواں سال ستمبر میں بھی مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ گرین لائن منصوبہ، ناگن چورنگی کے اسٹیشن پر موجود سیکورٹی گارڈ نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی کے گرین لائن منصوبے کے متعدد اسٹیشنز پر اسکیلیٹرزکھلے ہونے کی وجہ سے گرد و غبار اور کچرے میں ڈوب چکے ہیں‘ لوہا زنگ آلود ہوگیا ہے‘ بارشوں کی وجہ سے بعض مقامات سے سڑکیں خراب ہوچکی ہیں‘ جہاں پل ہیں وہاں نیچے کچرے کے ڈھیر ہیں اور غیر قانونی قابضین اپنی آبادی قائم کرچکے ہیں‘ لفٹ کے فریم کے لوہے کاٹے جا رہے ہیں‘ اسٹیشن کی کوئی دیکھ بھال نہیں کی جا رہی ہے‘ بہت سے اسٹیشن کے دروازوں کے اوپر پرندوں نے اپنا مسکن بنا لیا ہے‘ بعض اسٹیشنوں کے دروازوںکے شیشے توڑ دیے گئے‘ ان کے پروفائل خراب ہوگئے ہیں‘ بس اسٹیشنوں کو دھوبی گھاٹ بنایا ہوا ہے‘ کپڑے دھو کر سکھائے جا رہے ہیں‘ اسٹیشنوں کی مانیٹرنگ کے لیے کیمرے نصب نہیں کیے گئے ہیں‘ اسی طرح یوپی موڑ پر واقع ادھورا بس اسٹیشن پتھارے داروں کے روزگار کا مسکن زیادہ معلوم ہوتا ہے جبکہ پل کے کونے منصوبے کے آغاز سے پہلے ہی ٹوٹنے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سیڑھی بھی ٹوٹ کر منصوبے کی زبوں حالی کی داستان سنا رہی ہے۔ شہر میں بنائے گئے دیگر بس اسٹیشنوں کی حالت زار بھی اس سے مختلف نظر نہیں آتی ہے۔ جبکہ کچھ بس اسٹیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں‘ اسٹیشنز کی راہداری میں تعفن، کچرا اور غلاظت بھی جا بجا دیکھی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک گرین لائن منصوبہ کراچی میں آمد و رفت کے مسائل حل نہیں کر سکتا ہے‘ اس کے لیے بی آر ٹی کے تمام منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ فروری 2016ء میں سابق وزریر اعظم نوازشریف نے کراچی میں گرین لائن ریپڈ بس سروس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جسے 2 سال میں مکمل ہونا تھا لیکن ساڑھے 4 سال گزر جانے کے باوجود بھی منصوبہ مکمل ہونے کے دور دور تک آثار دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ 2018ء میں وفاقی حکومت تبدیل ہونے کے بعد جہاں کئی منصوبے کھٹائی میں پڑگئے وہیں گرین لائن منصوبہ بھی تاحال لٹکا ہوا ہے۔ کراچی کے شہری اب بھی منتظر ہیں کہ گرین لائن منصوبے پر بسیں کب چلیں گی اور شہریوں کو باعزت سفر کی سہولت کب میسر آئے گی۔ گرین لائن منصوبے پر کام کرنے کے لیے کراچی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ قائم کی گئی تھی جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے سندھ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ رکھ دیا گیا تھا۔کراچی گرین لائن منصوبے کے حوالے سے موقف جاننے کے لیے سندھ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (ایس آئی ڈی سی ایل) کے چیف انجینئر بریگیڈئیر (ر) سہیل ابرار سے متعدد بار ان کے نمبر 03215035553 پررابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے جسارت سے کی جانے والی فون کالز اٹینڈ نہیں کیں ۔