اسرائیلی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا ، نمازیوں پر فائرنگ درجنوں گرفتار و زخمی

175
مسجد اقصیٰ: نمازِ جمعہ کے بعد مسلمان احتجاج کررہے ہیں‘ اسرائیلی فوج مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں برسر اقتدار آنے والی نئی حکومت نے اپنے پیش روؤں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسجد اقصیٰ، مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق قابض فوج نے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر مظاہرین پر گولیاں اور آنسوگیس برسائی، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے، جب کہ کئی کو حراست میں بھی لیا گیا۔ اسرائیلی پولیس نے توہین رسالت کے خلاف مسجد اقصیٰ میں احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر تشدد کیا۔ نماز جمعہ کے بعد ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے اندر اور باہر احتجاج کیا۔ صیہونی فورسز نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس برسائی۔ ربر کی گولیاں لگنے سے خواتین اور بچوں سمیت 47 مظاہرین زخمی ہوگئے۔بیت المقدس میں شدت پسند یہود نے نسل سرپرستانہ ریلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز جملے کیے، جس پر فلسطینی مشتعل ہوگئے۔ ہلال احمر کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو ربر کی گولیاں لگیں۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق زخمیوں میں ان کی 2 خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔صحافی لطیفہ عبد الطیف کے گھٹنے پر گولی لگی، جب کہ ایک اور خاتون صحافی سندس ایویس بھی زخمی ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی طیاروں نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر بمباری کی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ اسرائیلی طیاروں نے رات گئے غزہ اور خان یونس پربم برسائے، جس سے کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اس سے قبل اسرائیل میں اقتدار سنبھالنے کے 24 گھنٹوں بعد ہی نفتالی بینت کی حکومت میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری کی تھی، جس کے نتیجے میں 10 فلسطینی زخمی ہوئے تھے، جب کہ کئی عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔ حماس کے ترجمان نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی بیت المقدس شہر میں مقدس مقامات کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے۔ یاد ہے کہ حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی 11 روزہ لڑائی کے بعد گزشتہ ماہ ہی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ 61 بچوں اور 36 خواتین سمیت 213 افراد شہید ہوئے تھے، جب کہ 10 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل نے اس جھڑپ کے دوران غزہ میں قائم کئی میڈیا ہاؤسز کی عمارت کو فضائی حملے میں تباہ کردیا تھا۔