کابل ایئرپورٹ کی سیکورٹی ترکی کے سپرد، طالبان ناراض

216

امریکا کی جانب سے افغانستان کے کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا انتظام ترکی کے حوالے کرنے کا حتمی فیصلہ ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن اور ترک صدر طیب اردوان نے ایک اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ترکی امریکی افواج کے انخلا کے دوران اور بعد میں بھی کابل میں کرزئی ایئر پورٹ کی سیکورٹی کے انتظامات سنبھالے گا۔

ترک سرکاری میڈیا اناڈولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے 7 جون کو افغان دارالحکومت میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی حفاظت کی پیش کش کی تھی۔ پیش کش کا مقصد امریکی افواج کے انخلاء کو محفوظ بنانا ہے۔ تاہم جوبائیڈن کی جانب سے اس پیش کش کی حالیہ منظوری پر ترک حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ مشاہد حسین سید نے ترک میڈیا اناڈولو ایجنسی کو بتایا تھا کہ ہم صدر اردوان کی اس پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اسلام آباد اور انقرہ کے مابین اعتماد اور دوستی کی فضا قائم ہے۔ دونوں ممالک افغانستان میں “امن ، سلامتی اور استحکام” کے اہم کھلاڑی ہیں۔

دوسری جانب نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد کرزئی ایئرپورٹ کی سیکورٹی اور اُس کو آپریٹ کرنے کی ترک پیش کش کی طالبان نے سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی بھی امریکی افواج کے ساتھ ساتھ 2020 کے معاہدے کے مطابق اپنی فوج کو افغانستان سے نکالے۔