خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 37 فیصد اضافہ

270

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر مشتاق غنی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں  صوبائی وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمورسلیم جھگڑا نے مالی سال22-2021کا بجٹ پیش کیا۔

صوبائی وزیر خزانہ کے پی کے نے  بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے 1 ہزار 118 ارب 30 کرور روپے کا بڑا بجٹ پیش کیا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ جبکہ مزدور کی  کم از کم اجرت 21 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔

تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری ملازمین کے لیے 10فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا، خصوصی مراعات نہ لینے والے سرکاری ملازمین  کی تنخواہ میں 37فیصد اور فنکشنل یا سیکٹورل الاؤنس میں 20فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر خزانہ کے پی کے نے کہا کہ پنشن   کےحقدار صرف   وفات پانے والے سرکاری ملازم کی بیوہ  اوروالدین ہونگے، پینشن میں 10 فیصد کر رہے ہیں، پنشن اخراجات میں گزشتہ چند سالوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تیمور سلیم جھگڑا کا مزید کہنا تھا کہ گندم کی سبسڈی کےلیے 10ارب روپے، غریب طبقے کی غذائی ضروریات کے لیے  10ارب روپے اور ترقی پذیر اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے لیے 10ارب 40کروڑ روپے مختص کیے ہیں جبکہ بیس ہزار مساجد کے خطیبوں کے ماہانہ وظیفے کے لیے 2ارب 60کروڑ  روپے بھی رکھے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ کے پی کے نے کہاکہ بجٹ میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس صرف ایک روپے مقرر کردی گئی اور دوبارہ رجسٹریشن بالکل مفت ہوگی،صوبہ میں 300 بنیادی مراکز صحت ،60 دیہی مراکز صحت اور 32 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کی حالت بہتر کرتے ہوئے وہاں 24 گھنٹے سہولیات کی فراہمی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال کے دوران 300 کنال پر مشتمل پشاور بس اسٹینڈ کی تعمیر کی جائے گی،صوبہ کے مختلف اضلاع میں طلبہ و طالبات کے لیے 30 نئے کالج بنائے جائیں گے۔