طالبان کیخلاف کھڑی ہونے والی افغان ملیشیا ‘سینگورین’ کی حقیقت

261

سینگورین ملیشیا اُن افغان شہری جنگجوؤں پر مشتمل ہے جو طالبان کی اسلامی حکومت کے نظریے کیخلاف ہیں۔

سینگورین میں سابقہ طالبان بھی شامل ہیں۔ سینگورین کے جنگجوؤں نے اپنے دشمنوں (طالبان) کی وضع قطع اختیار کی ہے اور طالبان کیخلاف پُرمسلح محاذ بنالیا ہے۔

سینگورین ملیشیاء افغانستان کے ایک سیاستدان اور فوجی کمانڈر عبد الجبار قہرمان نے سن 2015 میں قائم کی تھی جو کہ تین سال بعد طالبان کے ایک بم حملے میں قتل کردیے گئے تھے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینگورین میں شامل عام افغان شہریوں کی تربیت ملک کی خفیہ ایجنسی اور غیر ملکی افواج نے کی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاون فاؤنڈیشن نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ سینگورین خصوصی طور پر طالبان میں دراندازی اور خلل ڈالنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔

روایتی لباس اور داڑھی رکھے ہوئے سینگورین کے ایک رکن احمد جان نے صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکرگاہ کے نواح میں اپنی چوکی سے قریب طالبان کی پوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم دن رات ان سے لڑتے رہتے ہیں۔ ہمیں دو گھنٹے بھی آرام نہیں ملتا۔ یہ ہماری زندگی بن گئی ہے۔

افغانستان میں مقامی ملیشیاؤں کی ایک لمبی تاریخ ہے جو کبھی حکام کے خلاف اور کبھی اُن کیلئے لڑتی ہیں۔ ان ملیشیاؤں کا مقصد بھی سیاست کے بدلتے رُخ پر منحصر ہوتا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان بالخصوص سینگورین ملیشیاء سے شدید نفرت کرتے ہیں کیونکہ اس میں وہ باغی بھی شامل ہیں جو طالبان گروپ کو چھوڑ چکے ہیں۔

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کا اندازہ ہے کہ سنگورین کی طاقت 500 سے 1000 جنگجوؤں کے درمیان ہے۔

کچھ سینگورینز کیلئے طالبان سے لڑائی ذاتی ہے کیونکہ طالبان حملے میں اُن کے کسی نہ کسی عزیز کی موت ہوچکی ہے۔

ہلمند کی صوبائی کونسل کے سربراہ عطاء اللہ افغان نے بھی سنگوریوں کی حمایت اور طالبان کیخلاف ان کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ صوبے کا دفاع کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سنگوریوں میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔”