نوازشریف کی جائیدادوں کی نیلامی رکوانے درخواستیں مسترد

86

اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی جائدادوں کی نیلامی رکوانے کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے فیصلہ دیا کہ پٹیشنرز ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ نواز شریف کی نیلامی کی جانے والی جائداد میں ان کا مفاد ہے، نوازشریف کی جائدادوں فروخت کرنے کے ایگریمنٹ پر عمل نہیں ہوا جس نے عمل کرایا اس کے پاس اختیار نہیں تھا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی جائداد نیلامی کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔درخواست گزاروں کے وکیل قاضی مصباح الحسن ایڈوکیٹ نے دلائل دیے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کی جائداد نیلامی کا حکم دیا تھا لیکن نواز شریف کی پراپرٹیز میں ان تینوں درخواست گزاروں کے حصے ہیں، شیخوپورہ، اپر مال لاہور، کنال روڈ اراضی درخواست گزاروں نے خریدی مگر قبضہ ابھی بھی نواز شریف کے پاس ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ درخواست گزار اراضی کو اپنی پراپرٹی سمجھ رہے ہیں مگر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا،ان پراپرٹیز کا جو ایگریمنٹ کیا ہے، اس پر کوئی دستخط نہیں؟ وکیل نے کہا کہ یہ کیس سول عدالت کا ہے احتساب عدالت کا دائرہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کی پراپرٹی کو نیلام کرے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ احتساب عدالت نے ملزم کو اشتہاری کیوں قرار دیا ؟ آپ کے پاس ڈاکومنٹس نہیں ہیں اور جو دستاویزات موجود ہیں اس پر دستخط نہیں، آپ کہنا چاہتے ہیں کہ اس کیس کا دائرہ اختیار وہاں کے ضلع سیشن جج کے پاس ہے؟۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی جائداد نیلامی رکوانے سے متعلقہ درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ پٹشنرز شہریوں کے بقول نواز شریف کی جائدادیں انہوں نے خریدی ہوئی ہیں لیکن احتساب عدالت نے درخواست خارج کردی، پٹشنرز ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ نواز شریف کی نیلامی کی جانے والی جائداد میں ان کا مفاد ہے، نوازشریف کی جائدادوں کو فروخت کرنے کے ایگریمنٹ پر عمل نہیں ہوا جس نے عمل کرایا اس کے پاس اختیار نہیں تھا۔تین درخواست گزاروں اسلم عزیز ، اقبال برکت اور محمد ارشد ملک نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور نواز شریف کی جائداد خریدے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔نواز شریف کے اشتہاری ہونے کی وجہ سے 22 اپریل 2021 کو احتساب عدالت نے ان کی جائداد نیلام کرنے کا حکم دیا تھا۔