یورپی یونین ترکی کے بغیر سپر باور نہیں بن سکتی ، اردوان

161
انقرہ: انطالیہ میں ایس ای ای سی پی کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر تُرک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کا ہم منصبوں کے ساتھ گروپ فوٹو

انقرہ (ا نٹرنیشنل ڈیسک) تُرک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی کی مکمل رکنیت کے بغیر یورپی یونین سپر پاور نہیں بن سکتی۔ خبررساں اداروں کے مطاب ترکی کے شہر انطالیہ میں جنوب مشرقی تعاون کی یورپی تنظیم کا سربراہ اجلاس شروع ہوگیا،جس میں صدر اردوان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ جب تک ترکی کو مکمل رکنیت نہیں دی جاتی یورپی یونین کا توجہ اور طاقت کا محور بننا ناممکن ہے۔ صدر اردوان نے کہا ہے کہ ہم نصف صدی سے صبر کے ساتھ مکمل رکنیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اب اس جدوجہد کے کسی نتیجے پر پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یونین اس اندھے پن سے فی الفور نجات پائے اور مثبت ایجنڈے کے دائرہ کار میں ہماری رکنیت کے مرحلے کو آگے بڑھائے۔ جنوب مشرقی یورپ کے ملک کی حیثیت سے ہم غیر منظم نقل مکانی کا لاتعلقی سے تماشا نہیں دیکھ سکتے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی نسل پرستی، اسلام دشمنی اور مہاجر مخالفت بتدریج ایک قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔دوسری جانب وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے البانیہ کی وزیر خارجہ اولتا شاچکا، مونٹی نیگرو کے وزیر خارجہ ڈجورجے رادووچ اور بوسنیا ہرزیگوینیا کے وزیر خارجہ بیسیرا ترکووچ کے ساتھ ملاقات کی۔ چاوش اولو نے ٹوئٹر پر البانیہ اور مونٹی نیگرو کے ہم منصبوں کے ساتھ تصاویر بھی جاری کیں۔ مونٹی نیگرو کے وزیر خارجہ رادووچ کے ساتھ مذاکرات کے بعد پروٹوکول موضوعات کے بارے میں یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ ٹوئٹر سے جاری کردہ بیان میں وزیر خارجہ اولو نے کہا ہے مذاکرات میں باہمی تعاون کے شعبوں اور علاقائی پیش رفتوں پر بات چیت کی گئی۔