عراقی وزیر اعظم کی شیعہ-سنی قبائل سے اہم ملاقات

191

بغداد: عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے صلاح الدین گورنریٹ میں شیعہ اور سنی قبائل کو طلب کیا اور اُن کو ریاست کو سپورٹ کرنے اور معاشرے میں امن کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ الکاظمی اور شیعہ سنی قبائل کی یہ ملاقات وزارت عظمیٰ کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں آئی ہے جس میں الکاظمی نے سامرا شہر کے دورے میں قبائلی معززین سے ملاقات کی۔

الکاظمی نے کہا ، “ہم اپنے قبائل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عراق کی وحدت کے تحفظ ، معاشرے میں امن کو فروغ دینے ، اختلافات پر قابو پانے اور شہریوں کے مفاد کو اولین ترجیح دیں۔”

وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا ، “آج ہمیں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور ہم تعاون اور یکجہتی کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنے اور ان پر قابو پانے کے لئے پرعزم ہیں”۔

الکاظمی کا یہ ہدایات کیمپ اسپیچر میں فضائیہ (air force) کے زیرِ تربیت مقتولین کے متاثرہ اہل خانہ اور تکریت شہر کے سنی باشندوں کے مابین فرقہ وارانہ کشیدگی کے دو دن بعد سامنے آئی ہیں۔

جون 2014 میں داعش نے عراق کے ایک فوجی اڈے پر 1700 شیعہ فوجیوں کو قتل کیا تھا۔