برقی کاروں کی تیاری میں برطانیہ دیگر ممالک سے بہت پیچھے

230

ایک نئی رپورٹ کے مطابق الیکٹرک کاریں بنانے میں برطانیہ باقی ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے۔

انفلوئینشل گرین گروپ ٹرانسپورٹ اینڈ ماحولیات (ٹی اینڈ ای) کا کہنا ہے ک 2018 میں برطانیہ نے یورپ میں تیار کردہ تمام برقی کاروں میں سے نصف گاڑیاں تیار کیں لیکن برطانیہ کے مینوفیکچررز کی طرف سے سرمایہ کاری کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ دہائی کے آخر تک یہ شرح 4 فیصد رہ جائے گی۔

یہ ایسے وقت میں ہوگا جب بین الاقوامی مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہوگی۔

پٹرول اور ڈیزل کاروں کی فروخت کو غیرقانونی قرار دینے والے ممالک میں شامل ہونے کے باوجود برطانیہ بہت جلد بیرون ملک سے درآمد شدہ برقی گاڑیوں تقریبا مکمل انحصار کرے گا۔

برقی کاروں کا بازار نسبتاً چھوٹا ہی ہے لیکن یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ متعدد یورپی حکومتوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اہداف کو پورا کرنے کی اپنی کوششوں میں ​​پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت کو روکنے کے لئے پہلے ہی اہداف طے کر رکھے ہیں۔

2030 تک انجنوں والی کاروں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ کرنے والا برطانیہ اس معاملے میں پُرعزم ہے لیکن ٹی اینڈ ای کے مطابق یہاں مقیم مینوفیکچررز اس ٹیکنالوجی کی کمی سے نمٹنے کیلئے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔