عظیم صحافی ایم طفیل کی رحلت اور یادیں

196

پانچ مئی بروز بدھ 22 رمضان المبارک دس بج کر تین منٹ پر وہ لمحات ہیں جو اب ساری زندگی بھولنے سے نہیں بھول سکتے، لکھنے کو متعدد بار قلم کی جانب ہاتھ بڑھائے مگر ہمت جواب دے گئی کہ کیسے اپنے باپ کو مرحوم لکھوں مگر پھر یاد آیا کہ یہ اب ایک حقیقت ہے، ہم سب کو اپنے رب کے پاس جانا ہے، یہ دنیا تو ایک عارضی ٹھکانا ہے۔ یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے اس سے انکار کفر ہے اللہ کے فیصلوں پر رضا مندی ہی میں ہم سب کی خیر ہے۔ میرا اپنے والد معروف صحافی ایم طفیل مرحوم کے ساتھ تقریباً 50 سال کا ساتھ تھا بچپن سے لے کر پانچ مئی تک کا سفر بہت خوبصورتی سے گزرا۔ ان کے لبوں پر کبھی ناشکری نہیں دیکھتی ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتے تھے آخری دنوں میں عارضہ جگر کے باعث جب بیماری کی شدت میں اضافہ ہوا تو بھی اپنی تکلیف کسی کو محسوس نہ ہونے دی میں اکثر دوا دینے کے بعد انہیں کہتا کہ پریشان تو نہیں ہیں تو مسکرا کرکہتے نہیں شکر الحمدللہ، اللہ پر جتنا توکل اپنی زندگی میں میں نے والد صاحب کو کرتے دیکھا آج تک اس کی دوسری مثال نہیں دیکھی۔ شروع دن ہی سے نماز روزہ اور اللہ کی یاد میں انہیں مگن دیکھا کبھی دنیاوی معاملات میں ان کی دلچسپی ایک حد سے آگے نہ بڑھی البتہ اپنے پیشے سے انتہائی مخلص تھے۔ انہیں یہ بھی اعزاز حاصل رہا ہے کہ روزنامہ جنگ کی جب لاہور سے اشاعت ہوئی تو اس کا پہلا اداریہ انہوں نے تحریر کیا۔ کئی عشروں تک جنگ کا اداریہ لکھتے رہے۔ متعدد بار انہیں دوسرے اداروں سے پیش کش ہوئیں مگر انہوں نے کبھی اس جانب توجہ ہی نہ دی اور نہ ہی جنگ کے مالکان کو یہ باور کرایا کہ انہیں پیشکشیں آرہی ہیں۔
ان کے کالم اور اداریے اپنی مثال آپ تھے اپنی تحریروں میں انہوں نے ہمیشہ میانہ روی کو اولین ترجیح دی اور آخر میں ہر مسئلے کا حل ضرور تحریر کیا۔ تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کے فارمولے پر ہمیشہ کاربند رہے اور یہی طرز عمل ان کا پیشہ ورانہ زندگی سے ہٹ کر روز مرہ کے معمولات میں بھی تھا، زندگی میں کبھی لالچ یا حرص جیسی بیماری میں مبتلا نہ ہوئے ظاہری نمود ونمائش سے بہت دور رہے۔ ہمیشہ انہیں ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتے دیکھا۔ وفات سے چند روز قبل بیماری کی حالت میں انہیں ایمرجنسی میں جناح اسپتال لے جانا پڑا جہاں ان کا خون نہیں رک رہا تھا ڈاکٹروں کی بے حسی اور بدانتظامی اپنی جگہ پر مجھ سمیت میرا چھوٹا بھائی اختر شدید پریشانی کے عالم میں ڈاکٹروں کی منت سماجت کررہے تھے کہ ان کا خون روکنے کے لیے کچھ کریں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری سمیت متعدد صحافیوں کی جانب سے جناح اسپتال کی انتظامیہ سے رابطے کیے جارہے تھے مگر والد صاحب مرحوم انتہائی اطمینان کے ساتھ تھے ان کی زبان پر مسلسل یہ فقرے جاری رہے کہ ’’یااللہ رحمت کا مہینہ ہے رحم کریں‘‘۔ کچھ گھنٹوں بعد خون رکا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ مجھے فوری گھر لے جائو میں اب ٹھیک ہوں۔ ہمیشہ انہوں نے یہ کوشش کی کہ ان کی وجہ سے کسی کو دکھ یا کوئی تکلیف نہ ہو، خوداری کی انتہا میں نے اپنے والد مرحوم کے اندر جیسی دیکھی اس کا اندازہ ان کی وفات کے بعد اب محسوس ہوتا ہے۔
ماہ رمضان سے قبل ہی انہوں نے اپنی باتوں سے کچھ اشارے دے دیے تھے جب کے بیماری کی شدت غالب آنے سے قبل رمضان المبارک میں جمعہ پڑھنے کے لیے جب میرے ہمراہ مسجد گئے تو مجھے بتایا کہ یہ میرا آخری جمعہ ہے اللہ کے نیک بندوں کی نشانیاں ہمیشہ خاص ہوتی ہیں انہیں خود اندازہ ہوچکا تھا کہ اب اس فانی دنیا میں وہ زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے اسی تناظر میں ایک روز انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا کر کہا کہ میری مغفرت کے لیے دعا کرو حالانکہ اس وقت وہ بالکل ٹھیک تھے مگر میں اپنی نادانی میں ابو جی کا یہ اشارہ نہ سمجھ سکا۔
روزنامہ کوہستان سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا ان کے ہم عصر میں اس وقت مولانا کوثر نیازی مرحوم شامل تھے جن کے ساتھ مل کر انہوں نے ختم نبوت کے سلسلے میں جو تحریک چلی تھی اس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ مذہب سے خصوصی لگائو اور عشق رسول ان کی زندگی کا ہمیشہ سے اولین ترجیح رہی ہے اپنی صحافتی زندگی کے آخری دنوں میں جب انہوں نے آخری کالم تحریر کیا تھا اس کا عنوان بھی ’’عالم اسلام کے جذبات مجروح کرنے کی سازش‘‘ تھا جو ان کی وفات کے چند روز بعد شائع ہوا اس میں انہوں نے آخر میں یہ لکھا کہ ’’عالم اسلام نے کبھی دوسرے مذاہب کی حرمت اور تقدیس کو مجروح نہیں ہونے دیا، وہ نبی کریم ؐ کی ذات اقدس کے خلاف توہین آمیز رویہ برداشت نہیں کرسکتا خود اللہ تعالیٰ نے بھی نبی کریمؐ کے تقدس واحترام کو قرآن حکیم میں واضح کیا ہے اور تمام انبیاء کرام پر اس کی فضیلت اور برتری دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے اس پر خاموشی اختیار کرنے والے اللہ اور اس کے رسولؐ کے سامنے سر نہیں اٹھا سکیں گے‘‘۔ ان کی اس آخری تحریر سے مذہب اور اللہ اور اس کے رسول سے ان کے لگائو کی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی انہوں نے مجھے کہہ دیا تھا کہ اب وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے ہر وقت اللہ کی یاد میں مصروف رہتے کورونا کی وجہ سے دفتر آنا جانا انتہائی کم ہو گیا تھا ساری رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے ’’بینڈو‘‘ ان کا تکیہ کلام بن چکا تھا جس خوبصورت انداز سے وہ اس لفظ کو بولتے سننے والا انتہائی محسوس ہوتا دل کے اتنے صاف تھے کہ کبھی کسی کی برائی نہیں کی کسی کے بارے میں بری رائے نہیں رکھی اور نہ ہی دل میں کسی طرح کا بغض رکھا والد صاحب مرحوم کی بہت ساری یادیں ذہن میں تازہ ہیں مگر حقیقت میں انہیں لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہو پارہی آپ تمام پڑھنے والوں سے خصوصی گزارش ے کہ میرے مرحوم ابو جی کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب بہن بھائیوں سمیت تمام اہل خانہ کو صبرجمیل عطا کرے۔ آمین۔