سندھ کا 14 کھرب سے زائد کا بجٹ پیش،کراچی کیلئے صرف 109 ارب مختص

127

کراچی (اسٹاف ر پورٹر )وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 1477ارب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کردیا ۔جس میں دنیا کے 10ناقابل رہائش شہروں میں شامل کراچی کے لیے صرف 109ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں10 فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ صوبے میںکم از کم اجرت 17500 روپے سے بڑھا کر 25 ہزار ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا تاہم وزیر اعلیٰ نے اس کی پرواہ کیے بغیر اپنی بجٹ تقریر جاری رکھی۔ رواں سال صوبائی بجٹ میں 19.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، بجٹ میںکل آمدنی کا تخمینہ 14 کھرب 52 ارب 16 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جبکہ بجٹ خسارہ 25 ارب 73 کروڑ روپے ہوگا۔وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کاترقیاتی بجٹ 3 کھرب 29 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں ترقیاتی کاموں کے لیے 2 کھرب ، 22 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اضلاع کے ترقیاتی فنڈ میں 100فیصد اضافہ کرتے ہوئے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت کے لیے 172ارب اورتعلیم کے لیے 240ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 71 ارب 16 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں جبکہ وفاقی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صرف 5 ارب 37 کروڑ روپے مختص ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر میں گریڈ 1 سے 5 تک کے ملازمین کو ماہانہ پرسنل الاونس دینے کا اعلان کیا،گریڈ 1 کے ملازمین کو 1900 روپے ماہانہ پرسنل الاونس ملے گا ،گریڈ 2 کے ملازمین کو 1500 روپے ماہانہ پرسنل الاونس دیا جائے گا، گریڈ 3 کے ملازمین کو 900 روپے ماہانہ پرسنل الاونس ملے گا ،گریڈ 4 کے ملازمین کو 250 روپے ماہانہ پرسنل الاونس دیا جائے گا۔گریڈ 5 کے ملازمین 250 روپے ماہانہ پرسنل الاونس کے حق دار ہوں گے۔سندھ کے بجٹ میں بعض ٹیکسوں کی شرح میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔نئے بجٹ میں پاور آف اٹارنی پر اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح اصل قیمت کا ایک فیصد کر دی گئی۔اسی اسٹینڈ الون ریکروٹنگ ایجنٹس کے لیے شرح 8 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کر دی گئی۔ بجٹ میں کورونا سے انتقال کرنے والے سرکاری ملازمین کے ورثاء کو10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔بجٹ میں سندھ سیکرٹریٹ کے ملازمین کی ہیلتھ انشورنس اسکیم کے لیے 55 کروڑ روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔صوبائی بجٹ میں امن و امان کے لیے 120 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تھانوں اور چوکیوں کے لیے فیول کی رقم میں اضافہ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔بجٹ میںتھانوں کی سطح پر 259 رپورٹنگ روم اور 21 اضلاع میں ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام کے اعلان کے علاوہ پولیس پیٹرولنگ اور سیکورٹی کے لیے مزید گاڑیاں خریدنے کا اعلان کیا گیاہے۔بجٹ میںطالبات کے وظائف کے لیے 80 کروڑ روپے ،سرکاری اسکولز کی مرمت کے لیے 5 ارب روپے ،سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کے لیے 10 ارب 75 کروڑ روپے ، مفت کتابوں کی تقسیم کے لیے 2.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔سندھ حکومت نے کراچی کے لیے 8ارب روپے کے میگا پروجیکٹس سمیت سالانہ ترقیاتی پروگرام کی میں صرف مختلف منصوبوں کے لیے 109ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں ملیر ایکسپریس وے، کراچی حب واٹر کنال، TP-1 پرویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام، اربن روڈ کی تعمیر کے لیے شروع کیے جانے والے اقدامات اور این ای ڈیNEDیونیورسٹی میں ٹیکنالوجی پارک کا قیام شامل ہیں۔سندھ حکومت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت کراچی میں 39 ارب 62 کروڑ روپے کے منصوبے تعمیرکرے گی، یہ منصوبے روڈ انفرااسٹرکچر، نکاسی و فراہمی آب، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں سے متعلق ہیں جو عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیا انفرا اسٹرکچر اور انوسٹمنٹ بینک کی شراکت سے مکمل ہوں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ اس وقت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 1072منصوبے ہیں جن کی مجموعی لاگت 991ارب روپے روپے ہے اور اگلے مالیاتی سال2021-22ء میں اس کے لیے 109ارب 36کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی میں 16 پی پی پی موڈ منصوبے ہیں جن کی اندازً لاگت 288.96ارب روپے ہے جن کا تعلق روڈ انفرا اسٹرکچر، پانی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبو ں سے ہے، اس وقت کراچی میں 6 منصوبے ایسے ہیں جو پچھلے سالوں میں 436.68 ارب رو پے کی لا گت سے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیاء انفرا اسٹرکچر اور انوسٹمنٹ بینک کے مشترکہ تعا ون سے دستخط کیے گئے ہیں، اگلے مالیاتی سال2021-22 میں 39.619 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حکومت سندھ نے ورلڈبینک کے تعاون سے Karachi Competitive and Livable City of Karachi (Click) منصوبہ شروع کیا ہے، اس منصوبہ کے تحت نہ صرف حکومتی اقدامات میں بہتری لائی جائے گی بلکہ مقامی اداروں کو معاشی تعاون فراہم کرتے ہوئے میونسپل انفرا اسٹرکچر میں مزید بہتری لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی کا انفرا اسٹرکچر پر مقامی اداروں کے ذریعے 20ارب روپے سے زیادہ خرچ کئے جائیں گے، اہم منصوبوں پر کام کرتے ہوئے جیسا کہ مچھلی چوک سے کنوپ تک 80 کروڑ روپے کی لاگت سے 6.5کلومیٹر روڈ تعمیر کیا جائے گا، اگلے مالی سال میں میونسپل انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے کراچی کی لوکل کونسلوں کو 5.2ارب روپے دئے جائیں گے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے لیے 8ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو لوکل کونسل میں مختص کیے گئے 82 ارب روپے کے علاوہ ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ12کلومیٹر دو رویہ سڑک کی کورنگی کریک /کازوے سے پی اے ایف ائر مین گولف کلب تک تعمیر۔ ہیوی ٹریفک کے جام ہونے کی صورت میں یہ متبادل راستہ فراہم کرے گا۔ ایکسپریس وے سے ماڑی پور سے وائی جنکشن، لیاری ایکسپریس وے ریمپ ماری پور روڈ سے وائی جنکشن کاکا پیر روڈ تک 8 کلومیٹر دو رویہ سڑک کی تعمیر، اس کی تعمیر سے شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ یہ لیاری ایکسپریس وے سے بھی منسلک ہوگا۔ آئی سی سی پل پر انٹرچینج 3.06 کلو میٹر طویل سڑک کی تعمیر جو کہ 0.3 کلومیٹر شمال آئی سی آئی پل کے ماری پور انٹر سیکشن کو داہنی جانب سے ملائے گا۔سندھ سیف سٹیز پروجیکٹ کے تحت کراچی سیف سٹی (نئی اسکیم) کے لیے 6 ارب 88 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کی لاگت کا کل تخمینہ 29 ارب روپے لگایا گیا ہے منصوبہ جون 2023ء تک مکمل ہوگا، اس منصوبے کے لیے سندھ وفاق کے مساوی فنڈز فراہم کرے گا۔گریٹر کراچی سیوریج پلان ایس تھری کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم K4 کے لیے سندھ کے بجٹ میں 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی کے 5 صنعتی علاقوں میں ایفولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے کراچی میگا پروجیکٹس میں 13 نئی اسکیموں کا اضافہ کیا گیا ہے، 6 پرانی اسکیموں کے لیے ایک ارب 39 کروڑ روپے جبکہ 13 نئی اسکیموں کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سندھ میں ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے لیے 8 ارب 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کی 13 پرانی اور 19 نئی اسکیموں کے لیے مجموعی طور پر 8 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔بی آر ٹی ایس اورنج لائن کے لیے 70 کروڑ روپے،کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ ڈیزائننگ کے لیے 12 کروڑ 47 لاکھ روپے،سرکلر ریلوے بحالی کنسلٹنسی کے لیے 2 کروڑ 20 لاکھ روپے،سرکلر ریلوے ٹریک کے ساتھ حفاظتی جنگلے کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے، ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی منصوبہ کے لیے 47 کروڑ روپے مختص،کراچی اربن موبلیٹی پراجیکٹ یلو لائن منصوبے کے لیے 6 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی سرکلر ریلوے ٹریک پر فلائی اوور اور انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے 4 ارب 97 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں سپر ہائی وے پر انٹر سٹی بس ٹرمینل کے لیے 37 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص سنڈھ انٹرا ڈسٹرکٹ پیپلز بس سروس کے تحت بجلی سے چلنے والی 100 بسوں کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اگلے مالی سال میں میونسپل انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے کراچی کی لوکل کونسلوں کو 5.2ارب روپے دیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ مستحق افراد کی معاونت اور معیشت کی بحالی کے لیے 30.90 ارب روپے رکھے گئے ہیں،شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے 16.00 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،آئی ٹی سیکٹر کی بحالی کے لیے 1.70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ایس ایم ایز کے توسط سے صنعتی ترقی کے لیے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں، کم لاگت کی ہاؤسنگ کے لیے 2 ارب روپے مختص کییگئے ہیں،لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کی معاونت کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کے اندر اور باہر اپوزیشن نے شدید احتجاج اور شورشرابا کیا، جھوٹا اورچور، چور کے نعرے لگاتے رہے اور سیٹیاں بجائیں ،اپوزیشن ارکان پلے کارڈز بھی ایوان میں لے آئے جس پر پیپلزپارٹی کے اراکین نے مرادعلی شاہ کے گرد حصار بنالیا۔