نیب نے ملک اور قوم کی بہتری کیلئے اقدامات کئے ہیں ، چیئرمین نیب

167

لاہور: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور نیب ساتھ چل رہے ہیں لیکن کرپشن اور نیب ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، لوگوں کو حقیقت کا علم ہوتا نہیں اور تقریر شروع کردیتے ہیں، نیب مسئلہ نہیں ،بلکہ مسائل کا حل ہے جبکہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کا شوق پورا کرنے سے پہلے اسفندیار ولی کیس کا فیصلہ پڑھ لیں۔

تفصیلات کے مطابق  لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب کا کہناتھاکہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، نیب بڑے لوگوں کی خدمت کے لئے نہیں، عوام کے لئے وجود میں آیا، نیب مسئلہ نہیں مسائل کا حل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب پر تنقید سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملے گا، تنقید کے بھی اصول ہوتے ہیں، ہر چیز کے 2 پہلو ہوتے ہیں، روشن پہلوؤں کی بات نہیں کرسکتے تو تاریک پہلوں کو اجاگر کرکے قوم کو مایوس نہ کریں، نیب کوشاباش نہ دیں تاریک پہلو کی بات بھی نہ کریں، رب تعالیٰ جس کو عزت دینا چاہے تو کسی کے چند بیانات اس عزت کو ذلت میں بدل نہیں سکتے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل یہ کہا گیا کہ کاروباری طبقہ نیب سے مطمئن نہیں، نیب کی وجہ سے کچھ اہم ترین فیصلے نہیں ہوپا رہے، اس کے لئے ایک آرڈیننس لایا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ  4 مہینے بعد وہ آرڈیننس واپس ہوگیا جبکہ بتایا جائے کہ نیب کی وجہ سے کون سے معرکۃ الارا فیصلے نہیں ہوپارہے تھے، اگر ایسا ہے تو ان میں سے کون سے فیصلے کئے گئے، پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں لیکن تنقید کرنے والے اسفندیار ولی کے کیس کا فیصلہ بھی پڑھ لیں ، نیب آرڈیننس میں ترمیم کا شوق پورا کرنے سے پہلے اسفندیار ولی کیس کا فیصلہ پڑھ لیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ سرمایہ کاری کی راہ میں نیب کسی بھی صورت رکاوٹ نہیں، نیب لوگوں کے لئے تحفظ کی آماج گاہ ہے، نیب کی وجہ سے ملک کی برآمدات بڑھ رہی ہیں، آج ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  نیب کے کئی مسائل پس پردہ رہ کر حل کئے، پاکستان میں مشکل ترین کام کسی سے پیسہ واپس لینا ہے، کہا گیا کہ نیب چھوٹی مچھلیوں کو پکڑتا ہے، چھوٹی مچھلیاں جال سے نکل جاتی ہیں جبکہ ہم نے شارک اور مگرمچھوں کو پکڑا ہے، ملک کی تاریخ میں پہلی بار 3 سال میں 533 ارب روپے کی وصولیاں ہوئی ہیں۔

جاوید اقبال نے کہا کہ حقیقی بزنس مین اور ڈکیت میں فرق کرنا ہوگا، بزنس مین لوگوں کو ناامید نہیں دلاتے، لوگوں کے گھر کے دیئے نہیں بجھاتے، 3ماہ میں کسی بھی کاروباری شخصیت کی شکایت نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ  اس وقت1300ریفرنسز مختلف عدالتوں میں ہیں ان میں دو فیصد بھی بزنس مین کے کیسز نہیں، عام آدمی کی بربادی کی وجہ ہی کرپشن ہے اور پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو موٹر سائیکل پر تھے آج جہاز خرید لیےجبکہ کچھ لوگ 35 سال اقتدار میں رہے ہیں کچھ کو 35 ماہ بھی نہیں ہوئے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے ہر قدم ملک و قوم کی بہتری کے لئے اٹھایا، نیب پہلے بھی موجود تھا اور آج بھی موجود ہے اور نیب آئندہ بھی اپنا کام کرتا رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ  صبح پیشی بھگتنے والا شام کوخطاب میں نیب پر تنقید شروع کردیتا ہے، تنقید کرنے والوں کو حقائق کا ادراک ہونا چاہیے، نیب قوانین کو سپریم کورٹ دیکھ چکی ہے، کیا چند لوگ سپریم کورٹ سے زیادہ ذہین ہیں؟۔

چیئرمین نیب نے کہاکہ عوام کی دعا اور شاباش کے بعد کسی کی دعا اور شاباش کی ضرورت نہیں، نیب جس طرح کام کررہا ہے، اسی طرح کرتا رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں عام آدمی کی بربادی کی وجہ کروڑوں اربوں کی منی لانڈرنگ ہے، کیسز غلط ہوتے تو بریت کی درخواستیں مسترد نہ ہوتیں، نیب کسی کو جیل میں نہیں رکھتا، عدالت کے حکم پر جیل میں ہیں تومعصوم تو نہیں ہوں گے۔