حکومتی و ن لیگی ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی، ملیکہ بخاری اور سیکیورٹی اہلکار زخمی

194

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اراکین اسملبی نے ایوان کا تقدس پامال کردیا، قومی اسمبلی میدان جنگ بن گئی، حکومت اور ن لیگی ارکان کے درمیان ہونے والی لڑائی میں ایک دوسرے پر کتابوں سے حملے کیے جس سے حکومتی رکن ملیکہ بخاری اور سکیورٹی  اہلکار زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران وفاقی وزراء سمیت حکومتی ارکان اور ن لیگی ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی، ارکان نے بجٹ دستاویزات کو ڈیسک پر مارتے رہے، سیٹیاں بجائیں اور ہوٹنگ بھی کی۔

اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے ایک دوسرے پر بجٹ کی کاپیاں ایک دوسرے پر پھینکی گئیں۔ ، کتابوں کا بنڈل لگنے سے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی ملیکہ بخاری اور ایک سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔

ہنگامے کے سبب قومی اسمبلی کو اجلاس کودس منٹ کے لیے  پھر معطل کردیا گیا، ایوان کی کشیدہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے اضافی سارجنٹ ایٹ آرمز کی خدمات قومی اسمبلی کے سپرد کردی گئی۔

ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ لڑائی کا آغاز علی گوہر بلوچ کے نعروں سے شروع ہوا اورن لیگ کے ایم این ایز نے تمام پارلیمانی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ننگی گالیاں دیں، جس پر نوجوان ارکان جذباتی ہو گئے اور پھر بجٹ کی کتابیں پھینکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملیکہ بخاری کی آنکھ پر بجٹ بک ماری گئی ہے جس سے انکی آنکھ زخمی ہوگئی، ن لیگ کے اراکین اسمبلی کو خواتین کی عزت اور آبرو کا بھی کوئی احساس نہیں ہے۔