ایف آئی اے نے شہباز شریف کو طلب کرلیا

124

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو ایف آئی اے نے شوگر سکینڈل تحقیقات میں پیش ہونے کی آخری وارننگ جاری کردی۔

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ایف آئی اے لاہور طلبی کا نوٹس ارسال کر دیا، ایف آئی اے لاہور نے شہباز شریف کو شوگر سکینڈل میں طلب کیا ہے اور 22 جون کو پیش ہونے کا نوٹس دیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق شہباز شریف 22 جون کو لاہور دفتر میں پیش نہ ہوئے تو ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، ایف آئی اے میاں شہباز شریف کے خلاف شوگر سکینڈل میں تحقیقات کر رہا ہے اور تفتیش کیلئے بلایا گیا ہے، ایف آئی اے کو شہباز شریف کے خلاف چینی سکینڈل میں ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کو رمضان شوگر ملز میں چھوٹے ملازمین کے کھاتوں میں جانے والی 25ارب روپے پر جوابات دینے ہیں، اس لئے انہیں چار اہم سوالات کے جوابات بھی دینے ہیں، نوٹس کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف بتائیں کہ ایک ملازم اورنگزیب نے آپ کو 50 لاکھ روپے بھیجے ،آپ کو اس کا علم ہے، رمضان العربیہ شوگر ملز و دیگر جعلی اکائونٹس بھیجے اور نکالے گئے، 25 ارب روپے کا علم ہے۔

ایف آئی اے کے نوٹس میں کہا ہے کہ شہباز شریف کو دو دفعہ سوالنامہ بھجوایا گیا ہے لیکن ان کی جان بسے کوئی جواب نہیں آیا ، ایف آئی اے نے دسمبر 2020 میں 5 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا تھا، جنوری 2021 میں شہباز شریف کو دوبارہ یاد دہانی کرائی گئی تھی، جس پر شہباز شریف نے کہا تھا کہ عطا تارڑ ان کی جانب سے جوابات جمع کرائیں گے لیکن وہ جوابات بھی جمع نہیں ہوئے، لاہور ایف آئی اے نے شہباز شریف کو آخری وارننگ دیتے ہوئے 22 جون کو ریکارڈ سمیت ایف آئی اے لاہور دفتر ہونے کا کہا ہے۔