وزیر اعلیٰ آسام کا مسلمانوں سے متعلق شرمناک بیان

140

دسپور (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے مسلمانوں کو دھرتی کا بوجھ قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے شرم ناک بیان میں کہا کہ اقلیتی فرقے کو اپنی غربت اور دھرتی پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے مناسب طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ بی جے پی رہنما کا کہنا تھاکہ حکومتی اقدامات پر شکایت کرنے کے بجائے مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ اپنے خاندان کو چھوٹا کیسے رکھیں۔ اگر آبادی میں اضافے کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو ایک دن آسام کے کامکھیا مندر کی زمینوں پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ادھر سیاسی اور سماجی تنظیموں نے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ آئی او ایس نامی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر محمد منظور عالم کا کہنا تھا کہ ایک وزیر اعلیٰ کی زبان سے اس طرح کا فرقہ وارانہ بیان واضح کرتا ہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں میں اب ذرہ برابر آئین کا پاس باقی نہیں رہا۔ مسلمانوں کو اقلیتی فرقہ اور دھرتی کا بوجھ قرار دے کر خاندانی منصوبہ بندی کے مضحکہ خیز مشورہ دینے سے قبل ہیمنت بسوا سرما کو اپنے 6بھائیوں کے کنبے پر نظر کرنی چاہیے۔ بی جے پی آسام میں این آر سی کے نام پر مسلمانوں کو پریشان کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ثابت ہونے کے بعد انہیں آبادی کو بنیاد بنا کر پریشان کرنے اور نشانہ بنانے کے لیے مہم شروع کی گئی ہے۔ دوسری جانب اترپردیش اور راجستھان میں انتہاپسندوں نے ظلم کی انتہا کردی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اترپردیش میں ہندوؤں نے مسلمان بزرگ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ انسانیت سوز واقعہ اترپردیش کے شہر غازی آباد میں پیش آیا جہاں انتہاپسندوں نے عبدالصمد نامی ضعیف نماز ی کی ڈاڑھی کاٹ ڈالی۔ حملہ آوروں نے ان پر لاتیں، مکے اور ڈنڈے برسائے،جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوگئے۔ راجستھان میں گائے رکھنے پر بلوائیوں نے 2نوجوانوں پر تشدد کیا،جس کے نتیجے میں ایک ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ حملہ آوروں نے ان کا موبائل فون اور دستاویزات چھیننے کے بعد ان کو مارنا شروع کردیا تھا۔