چین سلامتی کیلیے مسائل پیدا کر رہا ہے ، نیٹو

118
برسلز: نیٹو ممالک کے سربراہ اجلاس سے قبل گروپ فوٹو بنوا رہے ہیں‘ سیکرٹری جنرل ژینس اسٹالٹن برگ پریس کانفرنس کررہے ہیں

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ چین نیٹو کا دشمن نہیں، مگر سیاسی، اقتصادی اور عسکری محاذوں پر اس کو جواب دینا ضروری ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر کے روز نیٹو اجلاس کے آغاز پر اسٹولٹن برگ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چین ہر محاذ میں نیٹو کے قریب پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین مغربی اقدار سے میل نہیں کھاتا، اس لیے اس کی طاقت کا مشترکہ انداز سے جواب دینا ضروری ہے۔ دوسری جانب چین نے پیر کے روز کہا ہے کہ جی سیون ممالک سیاسی دھوکا دہی میں ملوث ہیں۔ اس سے قبل جی سیون نے سنکیانگ اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کے معاملے میں بیجنگ حکومت کے کردار پر تنقید کی تھی۔ برطانیہ میں منعقدہ 3 روزہ جی سیون اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے چین سے کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے معاملے میں بین الاقوامی اقدار کی پاسداری کرے۔ لندن میں قائم چینی سفارت خانے کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جی سیون ممالک چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور سیاسی دھوکا دہی سے باز رہیں۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی جی سیون کے مشترکہ اعلامیے میں تائیوان اور چین سے متعلقہ دیگر امور کا تذکرہ کرنے پر رہنماؤں پر تنقید کی ہے۔ جی سیون رہنماؤں نے عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں یہ موضوع بھی شامل تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی موجودگی سے کس طرح نمٹا جائے۔اپنے اعلامیے میں انہوں نے آبنائے تائیوان کے آرپار امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رہنما چین سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سنکیانگ ایغور نیم خود مختار خطے اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق و بنیادی آزادیوں کا احترام کیا جائے۔