نئی حکومت بھی چند ماہ کی مہمان ہے ، اسرائیلی عوام

106

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے چینل 12 نے اپنے عوامی سروے میں انکشاف کیا ہے کہ نئی حکومت بھی چند دن کی مہمان ہے۔ سروے میں حصہ لینے والے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ نفتالی بینت کی نئی مخلوط حکومت زیادہ دیر تک نہیں چلے گی اورجلد ہی سیاسی بحران کا شکارہوکرختم ہوجائے گی۔ رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 43 فیصد اسرائیلی عوام کا خیال ہے کہ اتوار کے روز حلف اٹھانے والی نئی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی اور ملک میں سیاسی مستقبل ایک بار پھر تاریکی میں چلا جائے گا۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ 30 فیصد لوگوں کو یقین ہے کہ حکومت دراصل ایک طویل عرصے تک کام کرے گی لیکن مدت کے اختتام تک قائم نہیں رہے گی۔ 11 رائے دہندگان کا خیال تھا کہ حکومت 4 سال تک برقرار رہے گی۔ سروے کے مطابق 61 فیصد نے کہا کہ دائیں بازو کی پارٹی کے رہنما اور وزیر اعظم نفتالی بینت نے ذاتی مقاصد کے لیے نئی حکومت میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ 20 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ نظریاتی مقاصد کے لیے حکومت کا حصہ بنے ہیں۔ 19فیصد نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کی پارلیمان نے اتوار کے روز نئی اتحادی حکومت کے قیام کی منظوری دی تھی،جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ اس طرح دائیں بازو کے قوم پرست نفتالی بینت اسرائیل کے نئے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب میں عزم کا اظہار کیا کہ وہ 2سال میں 4انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی بحران کی شکار قوم کو متحد کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت تمام لوگوں کے لیے کام کرے گی اور اس کی ترجیحات تعلیم، صحت اور اصلاحات ہوں گی۔اپنے خطاب میں 49 سالہ نفتالی بینت نے کہا کہ یہ غم کا دن نہیں۔ جمہوریت میں حکومت کی تبدیلی ہوتی ہے، نظام وہی رہتا ہے۔ واضح رہے کہ اقتدار کی شراکت سے متعلق معاہدے میں نفتالی بینت ستمبر 2023 ء تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔