آئی ایم ایف بجٹ: عوام کے لیے 1230 ارب کے ٹیکس

209

ملک میں دس برسوں سے بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اسمبلی میں ہنگامہ کر رہی ہے لیکن کسی حکومت نے اس کو روکنے کی کوشش نہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ حکومت جو بجٹ ایوان میں پیش کرتی ہے اس میں کسی بھی طرح کی تبدلی اپوزیشن اور حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ کٹوتی کی تحریک پیش کرنا اپوزیشن کا کام ہے لیکن اب جو اپوزیشن ایوان ِ بالا اور قومی اسمبلی میں حکومت کے سامنے ہے وہ کٹوتی کی تحریک پیش کرنے کے بجائے صرف شور وغل میں مصروف نظر آتی ہے۔ 11جون 2021ء کو جو بجٹ ایوان میں پیش کیا گیا اس میں حکومتی ارکان بھی ایوان کا احترام بر قرار رکھنے میں یکسر ناکام رہے۔ ایف پی سی سی آئی، کراچی چیمبر آف کامرس نے وفاقی بجٹ برائے 2021-22 کو متوازن بجٹ جبکہ چھوٹے تاجروں نے الفاظ کا ہیر پھیر قرار دیا ہے۔ بزنس کمیونٹی کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ بجٹ انقلابی نہیں ہے، بزنس کمیونٹی کا خیال تھا کہ فنانس بل سامنے آنے پر ہی پتا چلے گا کہ اعداد وشمار کیا ستم ڈھائیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ وہ 5ہزار 632 ارب روپے کا ریونیو وصو لی کا ہدف کیسے حاصل کرے گی اور نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے کے لیے کیا قدم اٹھایا جائے گا اس کا کوئی واضح اعلان نہیں ہے، تاہم درآمدی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی سے چھوٹی گاڑیاں سستی ہوں گی جبکہ سیلف اسسمنٹ سے خوف کم ہوگا، پی ایس ڈی پی 600 ارب روپے سے بڑھا کر 950 ارب روپے کرنا اچھا اقدام ہے لیکن عمل بھی ضروری ہے۔
سوال یہی ہے کہ یہ سب کیسے ہو گا، حکومت کو بجلی اور گیس کے نرخ کم کرنے
چاہئیں تھے جبکہ مہنگائی اب بھی زیادہ ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی بجٹ پر کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر شارق وہرہ، بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا، انجم نثار، ہارون فاروقی، سراج قاسم تیلی کے صاحبزادے نُصیر سراج تیلی اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ یہ انقلابی بجٹ نہیں مگر ابھی تک بیلنس بجٹ ہے، حکومت ریونیو کلکشن 24فی صد زائد مانگ رہی ہے سوال یہ ہے کہ 1230 ارب سے زائد اضافہ ریونیو کہاں سے آئے گا، بجٹ میں عام آدمی کے لیے ریلیف ہے، ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے بہت کچھ رکھا گیا ہے، ایف بی آر کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں، تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کا اعلان یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ ملک میں 22کروڑ لوگوں میں صرف 22لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ٹیکس نہ دینے والوں کیخلاف قانون سازی درست فیصلہ، مگر یہ دیکھا جائے کہ لوگ ٹیکس نیٹ میں کیوں نہیں ہیں، کل آبادی کا 5فی صد لوگ ٹیکس دیتے ہیں تو کیا حکومت 95فی صد آبادی کو جیل میں ڈال دے گی۔
چینی اور آٹے کی قیمت میں 25سے 30فی صد کمی ہونی چاہیے تھی۔ 40 فی صد آئٹم پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کیا گیاجو اچھا اقدام ہے۔ ایف بی آر کی پاور کو محدود کرنے سے فائدہ ہوگا رشوت میں کمی کے امکانات ہیں لیکن ٹیکس وصولی میں بہتری ضروری ہے، ایف بی آر کی ہمیشہ سے کوشش ہے کہ اپنے اختیارات کو کم نہ ہونے دیں، پہلے بھی شوکت ترین نے ایف بی آر کے اختیارات کو کم کیا تھا، اس بجٹ میں انڈسٹریل سیکٹر اور معیشت کی بہتری کے لیے اچھے فیصلے ہوئے، سیلف اسسمنٹ اسکیم بہت فائدہ مند ہوگا، ٹیکس ادا کرنیوالوں کی تعداد میں بڑھ جائے گی، لوگ ٹیکس نیٹ میں کیوں نہیں آنا چاہتے اس کو دیکھنا ہوگا، بجٹ میں لکھا ہے کہ کاٹن یارن پر ڈیوٹی کو 5فی صد کم کیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہوا ہے یا نہیں، بجٹ میں غریب کے استعمال کی اشیاء میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، موجودہ حالات میں 24 فی صد آمدن بڑھانا سمجھ نہیں آتا، بیوروکریسی کے پاور کم کرنا بڑا فیصلہ ہے، سیلف اسسمنٹ اسکیم کا دورانیہ پانچ سال کا اعلان کرتے تو اعتماد اور بڑھ جاتا، ریٹیل پر سیلز ٹیکس لانے کی بات اچھا اقدام ہے، سرپلس بجلی ہے مگر صارف کو پہنچانے کا انتظام نہیں ہے۔
850 سی سی پر سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فی صد سے کمی کرکے ساڑھے12 فی صد کرنا خوش آئند ہے، چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکسز میں کمی سے عوام کو فائدہ ہوگا، آئی ٹی بزنس کو ریلیف ملنا بہتر عمل ہے، صنعتی خام مال ڈیوٹی کم ہونے پیداواری لاگت کم ہوگی۔ لیکن ضرورت یہ ہے کہ بجٹ تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے تو ایک اہم پیش رفت ہوگی، ودہولڈنگ ٹیکس کو ختم کرنا اور سیلز ٹیکس کی شرح کو گاڑیوں اور بعض اشیاء پر سے کم کرنا عوام کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ نائب صدر ایف پی سی سی آئی ناصر خان نے کہا کہ وزیر اعظم بجٹ کی منظوری سے قبل تاجر رہنمائوں سے خود ملاقات کریں تاکہ انہیں صحیح مشورہ دیا جا سکے، حکومت نے عوامی مسائل سے ہٹ کر گاڑیوں، اسٹاک مارکیٹ اور سیلولر فونز پر رعایات دیں اس سے عام آدمی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ چھوٹا تاجر جو پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے شدید ترین مشکلات میں ہے اور حکومت نے اسے کوئی سہولت ومراعات نہیں دی ہیں اب بجٹ میں بھی ان کے لیے کوئی خوشخبری نہیں ہے اور یہ بجٹ بھی امیروں، صنعت کاروں اور وڈیروں کے لیے ہے۔ زرعی سیکٹر پر انکم ٹیکس نہیں اور عام آدمی کو زمین میں دفن کردیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں مقامی کار مینو فیکچرنگ سیکٹر کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے خاتمے اور سیلز ٹیکس کی شرح میںکمی کے نتیجے میں کاروں کی قیمتوں میں بھی کمی کا امکان ہے لیکن آٹا چینی کہا ہے۔
بجٹ میں ایس ایم ای سیکٹر کو مراعات دی گئی ہیں، ود ہولڈنگ ٹیکس کا بوجھ زیادہ تھا جسے کم کیا جانا خوش آئند ہے، ٹریول سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں پانچ فی صد کمی بہتر فیصلہ ہے، درآمدی اشیا میں مختلف ٹیکسوں میں کمی سے قیمتو ں میں کمی ہوگی۔ کووڈ کے بعد کیپٹل مارکیٹ پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے تھے لیکن نئے بجٹ میں کیپٹل گین ٹیکس میں ڈھائی فی صد کمی کی تجویز خوش آئند ہے۔ بجٹ غربت میں کمی، جی ڈی پی کو 4.8 فی صد رکھنے، نئے روزگار میں اضافہ کرنے میں یکسر ناکام نظر آرہا ہے اور کم سے کم تنخواہ 20ہزار روپے کرنے لیے نجی شعبہ تیار نہیں اور عوام جہاں بجٹ سے پہلے تھے اس سے آگے جانے کے بجائے 1230ارب سے زائد نئے ٹیکس اضافہ کو پورا کرنے کے لیے کمر کس لیں۔ مہنگائی طوفان آنے والاہے۔