قیامت کی گرمی اور بارانِ رحمت

193

قدرت نے پاکستان کو چاروں موسم بڑی فراخدلی سے عطا کیے ہیں۔ ہر موسم کی اپنی شدت اور اس کا اپنا لطف ہے لیکن آدمی بھی بڑا کم حوصلہ اور بے صبرا واقع ہوا ہے، جب بھی کوئی موسم اپنے عروج پر آکر اس پر اثر انداز ہوتا ہے تو وہ اس سے گھبرا جاتا ہے اور اس سے پناہ مانگنے لگتا ہے۔ اِن دنوں گرمی کا موسم ہے، لوگ کہتے ہیں کہ قیامت کی گرمی پڑ رہی ہے۔ واقعی گرمی اپنے شباب پر ہے، سورج آگ برسا رہا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے میدان علاقوں میں درجہ حرارت 45 درجہ سینٹی گریڈ سے بھی اوپر چلا گیا ہے۔ ہوا چل رہی ہے لیکن اس نے لُو کی صورت اختیار کرلی ہے۔ گھر سے باہر نکلو تو گرم ہوا کے تھپیڑے استقبال کرتے ہیں اور آدمی بوکھلا کر رہ جاتا ہے۔ اِس گرمی کا مقابلہ کرنے اور اسے برداشت کرنے کے لیے قدرت نے آدمی کو عقل اور علم سے نوازا ہے اور اس علم کے ذریعے اس نے بجلی پیدا کی ہے جس سے راحت کے سیکڑوں سامان وجود میں آگئے ہیں۔ بجلی کے پنکھے تو ایک عام سہولت ہے جو ہر کہہ ومہ کو میسر ہے۔ اسی طرح ریفریجریٹر بھی ہر گھر کی ضرورت بن گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب برف خریدنے کے لیے قطار میں لگنا پڑتا تھا اب ریفریجریٹر کی بدولت ہر گھر میں برف کا کارخانہ لگا ہے اور وہ اپنی ضرورت کی برف بنارہا ہے۔ جو لوگ زیادہ باوسائل ہیں انہوں نے گھروں میں ائرکنڈیشنز لگا رکھے ہیں اور آگ برساتی گرمی میں سردی کا لطف اُٹھا رہے ہیں۔ سچ پوچھیے تو یہ سب بجلی کا کرشمہ ہے، بجلی نہ ہو تو یہ سارا سامانِ عیش و طرب راکھ کا ڈھیر محسوس ہوتا ہے اور آدمی کو اپنی اوقات یاد آجاتی ہے۔ ہمارے ہاں بجلی کی ترسیل کرنے والے ادارے نے اس بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ عام لوگ اپنی اوقات نہ بھولنے پائیں۔ چناں چہ کتنے ہی خوش نصیب علاقے ایسے ہیں جہاں بجلی کی یومیہ دس بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ معمول بن گئی ہے، لوگ بلبلا رہے ہیں، احتجاج کررہے ہیں لیکن اس سے کیا ہوتا ہے، کیوں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی شاید حکومت کے تبدیلی پروگرام کا ایک حصہ ہے اور ایک وفاقی وزیر کا دعویٰ ہے کہ بجلی کی کوئی کمی نہیں، ہمارے پاس فاضل بجلی ہر وقت موجود رہتی ہے۔
قیامت کی اس گرمی میں وفاقی وزیر تعلیم نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ چھوٹے بچوں کے اسکول کھول دیے ہیں، اکثر اسکولوں میں نہ پنکھا ہے، نہ پینے کا پانی ہے اور بچے غش کھا کر گر رہے ہیں۔ اسلام آباد کو مراعات یافتہ شہر کہا جاتا ہے وہاں کے اسکولوں کی حالت وہ نہیں ہے جو اندرون پنجاب یا اندرون سندھ کی ہے لیکن اسلام آباد میں پہلے ہی دن بہت سے بچے بیہوش ہوگئے۔ اب سنا ہے کہ وزیر تعلیم کو اپنی حماقت کا احساس ہوگیا ہے اور وہ 15 جون سے گرمیوں کی تعطیلات دینے پر غور کررہے ہیں۔ کورونا سے سب سے زیادہ نقصان تعلیم کا ہوا ہے۔ کورونا نے اگرچہ پوری دنیا کو متاثر کیا تھا لیکن مغربی ملکوں میں تعلیمی اداروں کو بحال کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی اور طلبہ کے تعلیمی سال کو بچانے کا خاص اہتمام کیا گیا لیکن ہمارے ہاں بے نیازی کا رویہ اپنایا گیا، نتیجہ یہ کہ طلبہ و طالبات کا پورا سال ضائع ہوگیا۔ وہ کچھ نہیں پڑھ سکے، اب اس حال میں امتحانات کا شیڈول بھی سامنے آگیا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
قیامت کی اس گرمی میں سب سے اہم اور سنگین مسئلہ پانی کی دستیابی کا ہے۔ سندھ میں شور برپا ہے کہ اسے اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا۔ کراچی جیسا شہر پانی کے لیے ترس رہا ہے اور لوگ ٹینکروں کے ذریعے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ یہی حال پنجاب کا ہے، پنجاب کے بھی چند شہروں میں واٹر سپلائی کا نظام موجود ہے جب کہ صوبے کے بیش تر علاقوں میں لوگ اپنے طور پر پانی کا انتظام کرتے ہیں، وہ گھروں کے اندر یا باہر گلی میں بور کروا کر زیر زمین پانی کو استعمال میں لاتے ہیں۔ اس طرح زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جارہی ہے جہاں ایک سو فٹ کی گہرائی پر پانی مل جاتا تھا وہاں اب تین سو فٹ تک کھدائی کرنی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف یہی پانی فلٹر کرکے پانی کمپنیاں کروڑوں اربوں کما رہی ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ بچپن میں ہم میونسپلٹی کے نلکے سے منہ لگا کر پانی پیتے اور موجیں کرتے تھے۔ یہی سرکاری پانی گھروں میں کھانے پینے اور نہانے دھونے میں استعمال ہوتا تھا لیکن اب نلکے کا پانی پینے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پینے کے لیے پانی خریدنا پڑتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومتوں نے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے، پانی خریدو یا پیاسے مرو۔ پنجاب اور سندھ میں بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں آدمی اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کے حصے کا پانی بھارت ہڑپ کر رہا ہے۔ اس نے راوی، ستلج اور بیاس پر ڈیم بنا کر ان دریائوں کا پانی روک لیا ہے، اس پانی سے سیراب ہونے والی لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہوگئی ہے، دریائے جہلم پر بھی بھارت نے بہت بڑا ڈیم بنایا ہے، یہ دریا اب پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو ایک نہر بن جاتا ہے۔ رہا دریائے سندھ تو بھارت نے اس کا رُخ موڑنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے وہ اس منصوبے پر اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ بھارت کے متعصب وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ پاکستان کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترس کر رہے گا۔ کہا جاتا ہے کہ آئندہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی جنگ ہوئی پانی کے مسئلے پر ہی ہوگی۔ پانی کے زمینی وسائل پر تو آدمی اختیار رکھتا ہے لیکن آسمانی سے برسنے والے پانی پر تو اسے کوئی اختیار نہیں ہے۔ پانی کی جب قلت ہوتی ہے اور جب قیامت کی گرمی سے زبان تالو سے لگ جاتی ہے تو آدمی ملتجی نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ پھر اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور بارانِ رحمت کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ ان دنوں بھی یہی صورت حال ہے۔ قیامت کی گرمی پڑ رہی ہے اور لوگ بارانِ رحمت کی دعائیں مانگ رہے ہیں اور کہیں کہیں یہ دعا اپنا رنگ بھی لارہی ہے۔