سندھ ورکرز ویلفیئر کی جعلی گورننگ باڈی کومسترد کرتے ہیں،خالد خان

40

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل لیبرفیڈریشن کراچی کے صدرخالدخان نے ایک بیان میں کہاہے کہ سندھ ورکرزویلفیئربورڈکی 2 سالہ جعلی گورننگ باڈی کو نیشنل لیبرفیڈریشن مسترد کرتی ہے ۔ سندھ لیبرپالیسی اور سندھ ورکرزویلفیئرفنڈایکٹ 2014ء کے منافی بنائی گئی جعلی گورننگ باڈی اس بے لگام کرپشن کو روکنے میںناکام ہوچکی ہے اور اس کے کچھ نام نہاد نمائندے انتظامیہ کے ساتھ ملکر کھلے عام بولیاںلگارہے ہیں۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ کا ہیڈ آفس کھلم کھلاکمیشن کے ریٹ طے کررہاہے ،بچوں کے اسکول کی کتاب کاپیوں سے لیکرفلیٹوں تک ان تمام مراعات میں کھلم کھلا بولیاں لگ رہی ہیں اور کرپشن کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ مزدور طبقے کے یہ قانونی ،بنیادی مراعات اورسہولیات بھی ورکرویلفیئربورڈ کے افسران اوران جعلی گورننگ باڈی کے گٹھ جوڑ کی نذرہوجاتی ہے۔سندھ حکومت مزدوروںکیلیے بنائے گئے تمام اداروںمیں اپنی مرضی کی جعلی اورکٹھ پُتلی گورننگ باڈیاں بنارہے ہیں تاکہ کرپشن کرنے میںسندھ حکومت کا ساتھ دیں اورمزدوروںکا پیسہ ہڑپ کرنے میں کوئی دشواری پیدانہ ہو۔ خالدخان نے کہاہے کہ حکومت سندھ ان اسکیموں پرتوجہ دینے کے بجائے جعلی گورننگ باڈیوں پرکان دھرے ہوئی ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔2012ء میں مزدوروں میں تقسیم کیے گئے ناردرن بائی پاس اورگلشن معمارکے فلیٹوں کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا اورجوفلیٹس مزدور وں میں تقسیم کیے گئے، ان پر حکومت کی مدد سے قبضہ کیاجارہا ہے جس کا باقاعدہ کمیشن طے کیاجاتاہے، نیشنل لیبرفیڈریشن یہ مطالبہ کرتی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ،نیب اورFIA ورکر ویلفیئر بورڈ کی تمام اسکیموںکی انکوائری کی جائے اور ذمے داروں کوکیفر کردار تک پہنچائے ۔نیشنل لیبرفیڈریشن کراچی ان تمام مزدور دشمن پالیسیوںکے خلاف خاموش تماشائی نہیںبن سکتی۔