پنجاب اسمبلی: 22-2021 کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ

86

لاہور: پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر پرویز الہی کی زیر صدارت  جاری ہے ، جہاں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت مالی سال   22-2021 کے لیے 2600ارب روپے کا بجٹ پیش کررہے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش ہوتے ہی اپوزیشن نے شور شرابہ اور احتجاج شروع کردیا، اپوزیشن اراکین نے نعرے لگائے کرپشن مافیا نامنظور، پرانے لوٹے مہنگی سرکار، تبدیلی سرکار جیسے نعروں سے ایوان میں آوازیں کسی جارہی ہیں۔

وزیر خزانہ پنجاب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ اس وقت بلندترین سطح پر پہنچ گئے ہے، پنجاب حکومت فلاح بہبود کے مختلف منصوبے لارہی ہے۔

بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لیےکل بجٹ 35 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنحواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں

وزیر خزانہ پنجاب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ گریڈ 1 سے19 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مزید  25فیصد اسپیشل اضافہ کیا جا رہا ہے، تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

زراعت اور صاف پانی کی فراہمی

ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ پنجاب کی معاشی ترقی کا انحصار زراعت کے شعبے پر ہے،زراعت کےترقیاتی بجٹ کو7ارب 75کروڑسےبڑھاکر31ارب50 کروڑ روپےکردیاہے،دیہی علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے5  ارب روپےمختص کیےگئے ہیں،دیہی آبادی کوپینےکےصاف پانی،سولڈویسٹ اورنکاسی آب کی سہولیات فراہم کی جائیں گی،ورلڈبینک کی معاونت سے86ارب کی لاگت  سے16پسماندہ  تحصیلوں میں  منصوبےلارہےہیں۔

نیاپاکستان اسکیم

وزیر پنجاب کا کہنا تھا کہ نیاپاکستان اسکیم کےتحت 35,000 اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے، جس کے لیے نیا پاکستان ہاوَسنگ پروگرام کو ایک ارب روپےکےفنڈزفراہم کررہےہیں، منصوبےکےتحت انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ کیلئے 3ارب روپےکےفنڈزمختص کیے ہیں، منصوبےکےتحت ایک گھر14لاکھ روپے کی قیمت پرمیسر ہوگا۔

سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی اسکیمیں

انہوں نے مزید کہا کہ 380ارب روپے مالیت کی 1769 ترقیاتی اسکیمیں شروع کی جائیں گی، جس میں 13ہزار کلو میٹر لمبائی کی سڑکوں کی تعمیرو مرمت اور توسیع مکمل کی جائے گی،جدید اور معیاری  روڈنیٹ ورک کی تعمیر کے منصوبےپر  ایشین ڈویلپمنٹ بینک 100ملین ڈالراورپنجاب حکومت10ملین ڈالر خرچ کرے گی۔

الیکٹرک گاڑیاں اور پراپرٹی ٹیکس

وزیر خزانہ پنجاب کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں   کی رجسٹریشن فیس اورٹوکن فیس کی مد میں 50اور 75فیصد تک چھوٹ دی جائے گی،آئندہ مالی سال میں بھی پراپرٹی ٹیکس 2اقساط میں ادا کیا جاسکے گا،کال سینٹرزپر ٹیکس کی شرح کوساڑھے 19سے کم کر کے 16فیصدکرنے کی تجویز ہےجبکہ10مزیدسروسزپرسیلزٹیکس کو16سےکم کرکے 5فیصدکرنےکی تجویز ہے۔

اسکالرشپس

ہاشم جواں بخت نے مزید کہا کہ رحمتہ للعالمینﷺاسکالرشپس کیلئے83 کروڑ 40 لاکھ روپےمختص کیےگئےہیں، 577پرائمری و ایلمینٹری سطح کےاسکولوں کومڈل اورہائی اسکولوں کادرجہ دیاجا رہا ہے۔

 سیاحت اور انفراسٹر کچر

وزیر خزانہ پنجاب کا کہنا تھا کہ صنعت ، زراعت، لائیوسٹاک،ٹورازم اورجنگلات  کیلئے57ارب 90 کروڑ روپے مختص کیاہے،اسپیشل پروگرامزکیلئے91ارب 41کروڑروپےمختص کیے گئے ہیں،انفراسٹر کچر ڈویلپمنٹ کیلئے145ارب40کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،ہماری حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک مربوط پالیسی وضع کر رکھی ہے، جس کےفروغ  کیلئے 2 ارب سےزائدکی رقوم مختص کی جا رہی ہے۔

صحت اور اسپتالوں کا بجٹ

وزیرخزانہ پنجاب نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر صحت کا بجٹ369ارب روپے رکھا گیا ہے،5نئے مدراینڈچائلڈ اسپتالوں کےقیام کویقینی بنایا جا رہا ہے جس کیلئے12ارب سےزائدکابجٹ مختص کیا گیا ہے، سرکاری و غیرسرکاری اسپتالوں سے علاج  کیلئے80ارب کی ہیلتھ انشورنس مہیا کی جا رہی ہے، سوشل سیکٹریعنی تعلیم اورصحت کیلئے205ارب 50کروڑروپےمختص کیے گئے ہیں جبکہ شعبہ صحت  پنجاب کیلئے96 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ لاہور میں14ارب روپےکی لاگت سےایک  ہزاربسترپرمشتمل اسپتال  کی تعمیرشروع ہو گی، بیماریاں کنٹرول کرنےکیلئےاینٹی گریٹڈپروگرام کےتحت 25کروڑروپےمختص کیے گئے ہیں، غریب اورپسماندہ علاقوں کےشہریوں کوصحت کی سہولیات کیلئے 60 ارب روپےمختص کیے ہیں۔

وزیر پنجاب نے مزید کہاکہ مختلف اضلاع میں 19نئی یونیورسٹیزبنائی جائیں گی جس کے لیے  ایک ارب 54کروڑمختص کیے ہیں جبکہ انصاف آفٹر نون پروگرام کیلئےساڑھے6ارب روپےمختص کیے گئے ہیں۔

بیوٹی پارلر اور دیگر شعبوں میں ٹیکس کی کمی

ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ فیشن ڈیزائنرز پرسیلز ٹیکس کی شرح گیارہ فیصد کم کر دی گئی ہے اب 16 کے بجائے پانچ فیصد ٹیکس دینا ہوگا، انٹرٹینمنٹ سروسز سینما، تھیٹر، موسیقی پروگرامز، سرکس، سپورٹس ایونٹس، ریس، فلم فیشن شوز اور موبائل اسٹیک شوز پر ٹیکس زیرو کر دیا گیا تاہم ٹیکس دہندگان جو کسی بھی پروفیشن، تجارت، سے تعلق رکھنے والے افراد مستقل ہوں یا عارضی، وہ پروفیشن ٹیکس 200 روپے ادا کریں گے۔