بجٹ سے صرف حکومتی اے ٹی ایم کا فائدہ ملے گا،شاہد خاقان

57

 کراچی(اسٹاف رپورٹر) ن لیگ کے مرکزی سینئرنائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ یہ اے ٹی ایم بجٹ ہے اس سے صرف حکومتی اے ٹی ایم کو فائدہ ملے گا،، بجٹ کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے، بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے سے بوجھ غریب عوام پر پڑے گا، عمران خان کی حکومت آنے سے ملک میں 1200 ارب کے نئے ٹیکس لگے، جھوٹ بولنے سے حقائق بدلتے نہیں ہیں۔اتوارکو مسلم لیگ ہائوس کارساز میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ مالی سال 22-2021 کے لیے پیش کردہ بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے، شوکت ترین نے وہی بجٹ تقریر کی جو انہوں نے 12سال قبل پیپلز پارٹی کے دور میں کی تھی،یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جو جھوٹ بول کر کام چلارہی ہے، بجٹ کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے، ماضی میں بھی حکومتی آمدن کے دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اثاثے بیچ کر آمدنی کو بڑھایا نہیں جاسکتا۔ ن لیگ کے 5 سال میں خسارہ ساڑھے7 ہزار ارب تھا جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے 3 سال میں خسارہ 10ہزار ارب سے بڑھ چکاہے، جوحقائق پیش کیے،چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی وزیر اس کو جھٹلا دے۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں فائدہ صرف سرمایہ داروں کو دیا گیا ہے، یہ اے ٹی ایم بجٹ ہے صرف حکومتی اے ٹی ایم کو فائدہ ملے گا، بجٹ دستاویز کے مطابق 383 ارب کے نئے ٹیکسز لگائے گئے ہیں، 265 ارب بالواسطہ ٹیکسیشن سے حاصل کیے جائیں گے، بالواسطہ ٹیکس لگانے سے بوجھ غریب عوام پر پڑے گا، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے 1200 ارب کے نئے ٹیکس لگے ہیں، روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ ایل این جی سے متعلق بہت واویلا کیا گیا، حکومت کو اب پتا لگا کہ ایل این جی سے ملک کو فائدہ ہورہا ہے۔عمران خان کی ریاست مدینہ میں51 روپے ٹیکس ہے، 53 روپے کی چینی 120 پر لے گئے اور اب مزید ٹیکس بھی لگادیا، ٹیکس لگانے سے بچوں کے دودھ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی پر بوجھ پڑے گا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جو جھوٹ بول کر کام چلا رہی ہے۔