افریقا: خطرناک بحران کی جانب گامزن

171

اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں کس عامل نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے یا مستقبل میں کون سی اقوام زیادہ کامیاب رہیں گی تو اُسے اس سلسلے میں آبادی سے بڑھ کر کسی بھی چیز میں مبادیات نہیں مل سکتے۔ گزشتہ 50 برس کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ آبادی کا تَنَوّع ہی کسی بھی قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چین اس کی واضح ترین مثال ہے۔ اس نے اپنی غیر معمولی آبادی کے نوجوانوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا اور ایک ایسی ورک فورس تیار کی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کو حیران کردیا۔ پورے چین نے باقی دنیا کے لیے فیکٹری کی حیثیت اختیار کرلی۔
آج ماہرین یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ آنے والے عشروں میں چین کی معاشی نمو میں کمی آتی جائے گی۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ چینی معیشت اب پختہ ہوچکی ہے اور اس میں مزید نمو کی گنجائش نہیں رہی۔ بات کچھ یوں ہے کہ چین کی آبادی میں بڑی عمر والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ آبادی میں بڑی عمر والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد بہت سے معاملات پر اپنے اثرات مرتب کرکے رہتی ہے۔ چین کے ٹیک آف کے دور میں جو سرمایہ کاری کی گئی تھی اُس پر شرحِ منافع برقرار رکھنے کے لیے جتنی تربیت یافتہ اور مستعد ورک فورس درکار ہے وہ اب میسر نہیں ہوسکتی۔ سستا سرمایہ بھی دستیاب نہ ہوگا۔
جس دور میں چین نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی اُسی دور میں اُس کے بالکل برعکس معاملات جاپان، امریکا اور یورپ میں دیکھے جاسکتے ہیں جہاں آبادی میں کام کرنے والوں کی تعداد گھٹ گئی اور بچوں، بوڑھوں کی تعداد بڑھی۔ جاپان کی ورک فورس میں کمی آئی اور معمر افراد کی تعداد بڑھتی گئی۔ امریکا میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یورپی ممالک کا مسئلہ اِس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ وہاں آبادی میں اضافے کی رفتار خطرناک حد تک کم رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں معمر افراد مزید معمر جبکہ کام کرنے والے لوگ ریٹائرمنٹ کی طرف جارہے ہیں جبکہ بچوں کی تعداد کم ہونے کے باعث ورک فورس میں نوجوانوں کو شامل کرنے کا معاملہ راستے میں اٹک کر رہ گیا ہے۔ ایسے ممالک میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد گھٹ گئی ہے اور بچوں، بوڑھوں کی نگہداشت کے مراکز بھی تیزی سے قائم نہیں کیے جاسکتے۔
بیسویں صدی کی ابتدا کے وقت چین کی طرح بھارت میں بھی آبادی کا نمایاں حصہ نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ چین کی طرح اُس نے بھی ترقی کی طرف قدم بڑھایا۔ بھارت میں تب کام کرنے والوں یعنی 20 سے 30 سال کی عمر والوں کی تعداد نمایاں تھی۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان بہت کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے تجربے بھی کرتا ہے۔ بھارت میں بھی یہی ہوا۔ یوں ورک فورس کا بڑا حصہ کام کرنے اور قومی خزانے کو بہت کچھ دینے کے لیے تو تیار تھا مگر اُس سے لیتا کچھ نہیں تھا۔ یوں بھارت کے لیے ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔
بھارت کی آبادی میں اضافے کی رفتار غیر معمولی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بہت جلد آبادی کے معاملے میں چین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ جب ایسا ہوگا تب وہ اپنی ترقی کی رفتار کس طور برقرار رکھ سکے گا یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایک آدھ عشرے کے بعد بھارت کی آبادی میں ڈھلتی اور بڑھتی ہوئی عمر کے افراد کا تناسب کیا ہوگا۔ جب معمر افراد کی تعداد بڑھے گی تو ملک کی تیزی سے کام کرنے کی صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور یوں ملک کی معاشی نمو کی رفتار بھی گھٹے گی۔ جو کچھ جاپان میں اور اُس کے بعد چین میں ہوا وہ بھارت میں بھی تو ہونا ہی ہے یعنی آبادی میں ایسے افراد کی تعداد بڑھنی ہے جو کچھ کریں گے نہیں اور معاشی و معاشرتی فوائد کے حصول کے حقدار ہوں گے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد لوگوں کی بہبود کا خیال رکھنا بھی ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔
آبادی کے حوالے سے تاریخی اعتبار سے اہمیت کی حامل ایک اور کہانی کا جنم ہونے والا ہے مگر دنیا کو اس کا کچھ زیادہ اندازہ نہیں۔ یہ عظیم ترین تبدیلی افریقا میں رونما ہوگی۔ اور یہ محض قیاس آرائی کا معاملہ نہیں کیونکہ جو کچھ ہونا ہے اُس کے آثار نمایاں ہوچلے ہیں۔
کسی بھی ملک کی آبادی کو ڈھنگ سے بروئے کار لانے کے لیے اُسے کوئی واضح سمت دینا پڑتی ہے، اُس کے سامنے کوئی بڑا مقصد رکھنا پڑتا ہے۔ چین نے بھی یہی کیا اور جاپان نے بھی یہی کیا تھا۔ آبادی کو بروئے کار لانے اور اُسے قومی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے جامع اور بے داغ پالیسی تیار کرنا پڑتی ہے، حکمتِ عملی تیار کرنا پڑتی ہے۔
افریقا میں آبادی میں اضافے اور فی عورت زچگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس وقت پورے برِاعظم کی آبادی ایک ارب 40 کروڑ ہے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ پاپولیشن ڈویژن نے ماہرین کی آرا کی روشنی میں پیش گوئی کی ہے کہ اگر معاملات یونہی رہے تو رواں صدی کے آخر تک افریقا کی آبادی ساڑھے 4 ارب ہوچکی ہوگی۔ افریقا کی آبادی میں ایک طرف اضافہ ہو رہا ہے، یعنی بچوں اور لڑکپن کی حدود میں قدم رکھنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف ریٹائرمنٹ کی عمرکو پہنچنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
افریقا کے حوالے سے سوچنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس برِاعظم کی ترقی کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔ ایسے ممالک بھی ہیں جن کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ وہ سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہیں، خشکی سے گھرے ہوئے ہیں، صحرائی علاقے وسعت اختیار کر رہے ہیں یعنی زرخیز زمین کا رقبہ گھٹتا جارہا ہے۔ ان تمام ممالک میں غربت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ ان میں نائیجیریا، مالی اور چاڈ نمایاں ہیں۔ آبادی کے تنوع کے اعتبار سے جس ملک پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے وہ نائیجیریا ہے۔ نائیجیریا کی آبادی 20 کروڑ سے زائد ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے افریقا کا سب سے بڑا ملک ہے مگر رقبہ؟ اس کا مجموعی رقبہ امریکی ریاست ٹیکساس کے رقبے سے محض ایک تہائی زیادہ ہے۔ آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کے شعبے نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں صدی کے آخر تک نائیجیریا کی آبادی کم و بیش 70 کروڑ ہوچکی ہوگی۔ سوچا جاسکتا ہے کہ تب اس محدود رقبے والے ملک کا کیا بنے گا؟
بھارت اور چین نے تو اپنی آبادی میں نئی نسل کو ڈھنگ سے بروئے کار لانے کا سوچا اور اس میں کامیاب بھی ہوئے مگر نائیجیریا میں ایسا کچھ بھی ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی بھی ملک کے لیے حقیقی سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں۔ نائیجیریا میں ایک طرف تو شدید سیاسی عدم استحکام ہے اور دوسری طرف اشرافیہ بھی نا اہل ہے یعنی ملک کے وسائل کو ڈھنگ سے بروئے کار لانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ لاکھوں نوجوان کالج کی سطح کی تعلیم مکمل کرلینے کے باوجود بہتر روزگار سے محروم ہیں اور بہتر مستقبل کے لیے ملک سے باہر جانا اُن کی مجبوری بن چکا ہے۔
آبادی کے حوالے سے نائیجیریا کو جس صورتِ حال کا سامنا ہے وہ ایک بڑے اور خطرناک بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک کے کئی حصے اس قدر بگڑے اور بپھرے ہوئے ہیں کہ اُن پر حکمرانی محض خواب ہوکر رہ گئی ہے۔ نائیجیریا میں 36 ریاستیں (صوبے) ہیں۔ ’’دی نیو ہیومینیٹیرینز‘‘ کے مطابق ان میں سے ایک کے سوا تمام ریاستوں میں معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج تعینات کی جاچکی ہے۔ نائیجیریا ایک ایسا ملک ہے جو پُرعزم، محنتی اور مستعد ورک فورس تیار کرنے کے حوالے سے معروف رہا ہے مگر آزادی کے بعد سے اس ملک میں تیل کی دولت کو زیادہ سے زیادہ ہتھیانے کے لیے گروہوں میں چپقلش ہوتی رہی ہے۔ باقی تمام امور کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ نائیجیریا میں آبادی کو بروئے کار لانے پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے مگر زراعت کو بھی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کا معاملہ بھی سرد خانے میں ڈالا جاتا رہا ہے اور ملک میں صنعتی عمل بھی کبھی اُس طرح شروع نہیں کیا گیا جس طرح شروع کیا جانا چاہیے تھا۔ عشروں کی غفلت اور نا اہلی کا نتیجہ بھگتنے کا وقت آگیا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث پوری دنیا میں معیشتیں خرابی سے دوچار ہیں۔ عالمی معیشت کی خرابی نائیجیریا پر بھی اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہے گی۔ حالات اُس موڑ کی طرف رواں ہیں جہاں تیل پیدا کرنے والے غریب و پس ماندہ ممالک کے لیے معاملات انتہائی ناموافق ہوں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ حتمی تجزیے میں ہوگا کیا۔ سیدھی سی بات ہے، اگر معاملات کو یونہی بگڑنے دیا گیا تو نائیجیریا جیسے ممالک شکست و ریخت کے مرحلے سے گزریں گے۔ کیا کچھ نہیں کیا جاسکتا؟ کیوں نہیں؟ امریکا اور باقی دنیا کو مل کر افریقا کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ گھانا اور روانڈا جیسے چھوٹے اور بے وقعت ممالک سے جُڑ کر حالات درست کرنے کے نام پر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بجائے نائیجیریا، کانگو، ایتھوپیا اور سوڈان جیسے بڑی آبادی والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ایسی جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے جو پورے برِاعظم کے بھلے کے لیے ہو۔
افریقا پوری دنیا کے لیے ایک بڑے بحران کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ظاہر کرنے کی کوشش نہ کی جائے کہ افریقا کے معاملات سے باقی دنیا کا کوئی تعلق نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کے صدور اور دیگر قائدین کو افریقی ممالک کے دورے کرکے وہاں گفت و شنید کا مرحلہ شروع کرنا چاہیے۔ کچھ کرنے کا وقت یہی ہے۔ (بشکریہ: اسلامک ریسرچ اکیڈمی۔ترجمہ: محمد ابراہیم خان)