امریکی مفادات کا کھیل اور مشرق وسطیٰ

205

امریکی صدر جوبائیڈن اپنی پہلی پریس کانفرنس کے اس بیانیے سے منحرف نظر آتے ہیں کہ یہ دور جمہوریت اور مطلق العنانیت کے درمیان مبارزت کا دور ہے اور ہمیں ثابت کرنا ہے کہ جمہوریت آج بھی اتنی ہی کارآمد ہے جتنی یہ پہلے تھی۔ صدر جوبائیڈن کے عہدہ سنبھالنے سے لے کر اب تک اگر عالمی حالات پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسی کوئی بات بھی جمہوریت کے حق میں نظر نہیں آتی، بلکہ وہی پرانی روش نہایت واضح ہے کہ امریکی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ جمہوریت کے تمام اصولوں پر بات کی جاتی ہے اور ان کی پامالی پر واویلا بھی کیا جاتا ہے مگر اپنے حساب سے۔
امریکا اور مغرب، چین اور روس کے حوالے سے انسانی حقوق کا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے۔ انہیں مغرب میں اپنے ہی ممالک میں ہوتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی۔ یورپی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف منظم مہمات اور مسلمانوں کا کشت و خون ان انسانی حقوق کے چیمپئنز کو کبھی نظر نہیں آتا۔ جہاں انہیں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہو اور اپنی بڑائی ثابت کرنا مقصود ہو وہاں سارے اصول بیان کیے جاتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر ہر طرف سے شور کروایا جاتا ہے۔
وہی امریکا جو ٹرمپ کے دور میں سعودی عرب کے یمن پر حملوں کی حمایت کرتا رہا، اب جوبائیڈن کے دور میں سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کےلیے ان حملوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہہ رہا ہے۔ کیونکہ امریکا چاہتا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے اور ساتھ میں عرب ممالک جیسے قطر، وغیرہ کے ساتھ بھی تعلقات استوار کریں کیونکہ نئے اتحاد بنانے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
صدر ٹرمپ ہو یا کوئی اور، پالیسی ہمیشہ اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کی ہی چلتی ہے۔ اس کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کاروباری معاہدوں پر زور دیتا رہا اور جان بوجھ کر اخلاقیات کو نظر انداز کرتا رہا تاکہ مخالفین کچھ ایسی حرکات کے مرتکب ہوں کہ مستقبل میں کسی بھی وقت انہیں ان حرکات کی وجہ سے نچایا جاسکے۔ جنگوں میں کتنے سویلین مرے، کتنے افراد بے گھر ہوئے یا کتنے صحافی مارے گئے یا قید ہوئے، یہ بڑی طاقتوں کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ان کے اعداد و شمار اپنے پاس جمع کرنا اور بوقت ضرورت انہیں استعمال کرنا ان کا مقصد ہوتا ہے۔
ان بڑی طاقتوں کے صدور اور سربراہان بڑے لچھے دار اور پرکشش بیان جاری کرتے ہیں جیسے کہ جارج ڈبلیو بش نے اپنی دوسری بار صدر بننے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری سرزمین کی آزادی کا قائم رہنا دوسری سرزمینوں کی آزادی سے مشروط ہے اور اسی نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ صدر بارک اوباما نے ظلم روکنے کا بوڑڈ قائم کیا، جس کا نام اٹراسٹیز پریوینشن بورڈ تھا۔ مگر شام اور جنوبی سوڈان میں گھرے لوگ جو ظلم کا شکار تھے اس بورڈ کو کبھی نظر نہ آئے۔
اپنی پالیسی آگے بڑھانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کےلیے مظالم سے چشم پوشی کرنا خود ایک پالیسی بن چکا ہے۔ بڑے بڑے اصولوں کے بھاشن دینا اور جب اپنا مفاد سامنے آئے تو اسی اصول سے صرف نظر کرلینا یا یوٹرن لے لینا آج کل ہی نہیں عرصہ دراز سے ممالک کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کا اہم جز رہے ہیں۔
ابھی حال ہی کے فلسطینی حالات کو دیکھیں تو یہ پالیسی واضح طور پر سمجھ میں آجاتی ہے، بلکہ ایک دفعہ پھر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ طاقتور کا مفاد ہی اصل میں اس کی پالیسی اور اصول ہوتا ہے۔ باقی کتابی اصولوں کو وہ صرف دوسروں کو بلیک میل کرنے کےلیے استعمال کرتا ہے۔
مظالم سے چشم پوشی اب بھی اتنی ہی شدت سے جاری ہے، جتنی کہ یہ پہلے تھی۔ سعودی عرب سے یمنی اسکول بس پر بمباری ہوجائے یا صدر بشارالاسد اسپتالوں پر حملے کروائے یا اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر حملے کرکے ان کے گھر، اسکول، اسپتال سب کچھ تباہ کررہا ہو، یہ چشم پوشی جاری ہے۔ اس چشم پوشی اور نظرانداز کرنے کی پالیسی کی وجہ سے معصوم انسانی جانوں کا نقصان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ آرمڈ کونفلیکٹ اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ کے مطابق 2016ء سے لے کر 2020ء کے درمیان 37 ہزار سویلین مارے گئے۔ تقریباً 8 کروڑ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اسپتالوں پر حملے بھی بڑھ گئے ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو جان سے مارنے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مگر صاحبان اقتدار کی ذاتی مفاد پر مبنی چشم پوشی جاری ہے۔
مشرق وسطیٰ تقریباً ایک صدی سے ساری دنیا کےلیے ایک ممکنہ خوفناک جنگ کا نقطہ آغاز بنا رہا ہے۔ اگر سنجیدگی سے اس مسئلے کو دیکھا جائے تو اس مسئلے کی بنیاد مذہبی سے زیادہ معاشی ہے۔ پچھلی صدی میں جبکہ مغرب نے تقریباً تمام دنیا پر قبضہ کر رکھا تھا، اس وقت وہ آئندہ سو سال کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہیں اپنی معاشی ترقی کےلیے جس توانائی کی ضرورت تھی وہ تیل کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں موجود تھی۔ یہ خطہ مغرب سے اتنے فاصلے پر تھا کہ وہ اس پر براہ راست اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ آج نہیں تو کل انہیں اپنی کالونیوں کو آزادی دینی پڑے گی۔
یہاں قدرت کی کرم نوازی بھی مظلوموں کا ساتھ دینے پر آمادہ نظر آئی کہ اس نے ایک ایسا شخص مغرب ہی میں پیدا کردیا جس نے اس وقت کی سپر پاور برطانیہ کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ جرمنی میں پیدا ہوا۔ ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا کیا، کیا نہیں کیا، یہ ایک الگ بحث ہے، لیکن اس کے یہودیوں کے خلاف اقدامات نے انہیں برطانیہ اور امریکا کا اتحادی بنادیا۔ یہودیوں نے بے شمار افرادی قوت بھی ان دونوں ممالک کو فراہم کی اور جرمنی میں ان کےلیے جاسوسی کے فرائض بھی انجام دیے۔
جب امریکا اور برطانیہ یہ جنگ جیت گئے تو یہودیوں نے ان سے اپنی خدمات کا صلہ بھی مانگ لیا۔ یہاں یہودیوں نے ایک تیر سے دو شکار کیے۔ وہ قوم جو صدیوں سے کسی مملکت کے بغیر ایک قوم کی صورت میں جی رہی تھی، انہیں نہ صرف اپنے لیے ایک ملک ملنے کی راہ نظر آئی بلکہ اپنی پسند کی سرزمین بھی منتخب کرنے کا اختیار مل گیا۔ اس طرح مغرب کو بھی دو فائدے حاصل ہوئے۔ ایک تو انہیں خطے میں ایک مضبوط اتحادی مل گیا اور دوسرا خطے کے دیگر ممالک پر نظر رکھنے کےلیے ایک مستقل ٹھکانا بھی۔
آہستہ آہستہ یہودیوں نے پوری مغربی اور امریکی معیشت پربھی قبضہ کرلیا- آج صورت حال یہ ہے کہ مغرب چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کے خلاف زبان نہیں کھول سکتا۔ ایک تو مغرب کی پوری صحافت کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، جو اسرائیل کے تمام مظالم کو بھی اپنے دفاع میں کی جانے والی کارروائیاں قرار دیتی ہے۔ اس لیے مغرب میں بسنے والا ایک عام آدمی اصل صورت حال سے کبھی واقف نہیں ہوپاتا ہے۔ اگر کوئی مغربی صحافی صحیح صورت حال کی عکاسی کردیتا ہے تو اس کی ملازمت ختم کردی جاتی ہے۔
یہودیوں نے جس طرح بےحیائی اور بے راہ روی کو مغرب میں فروغ دیا، جس طرح وہاں خاندانی نظام کو تباہ کروایا، اس کی وجہ سے آج ہر فرد مغرب میں تنہا ہے، بے یار و مددگار ہے۔ وہاں باپ اپنی بالغ اولاد جو بے روزگار ہوجائے اس کو بھی سپورٹ نہیں کرتا۔ ماں اپنی اولاد کو کوئی مدد نہیں دیتی۔ اس لیے وہاں انسان کا سب سے بڑا خوف بیروزگاری ہے، جس سے ہر شخص بچتا ہے۔
مغرب میں بیروزگار ہونے کا مطلب صحیح معنوں میں فٹ پاتھ پر آجانا ہوتا ہے۔ کیونکہ آمدنی بند ہونے کی صورت میں سر چھپانے کی جگہ بھی چلی جاتی ہے، کیونکہ وہ بھی بینک سے قرض لے کر ہی لی گئی ہوتی ہے۔ بینک کی قسط بند ہوتے ہی گھر بھی ہاتھ سے چلا جاتا ہے۔ یا اگر آپ کرائے پر رہتے ہیں تو مالک مکان نکال باہر کرتا ہے۔ اکثر صورتوں میں بیوی بھی چھوڑ کر چلی جاتی ہے، کیونکہ وہ بھی آپ کا بوجھ اٹھانے پر راضی نہیں ہوتی ہے۔
امریکا اور یورپی اقوام نے خطے کے دوسرے ممالک کےلیے ایک مستقل دردسر اسرائیل کی شکل میں پیدا کردیا۔ اس کے دو فائدے انہیں حاصل ہوئے۔ ایک تو عربوں کو اسرائیل کے خوف میں مبتلا کرکے اپنا بے شمار اسلحہ انہیں بیچ دیا، جس سے عربوں کی دولت ان کی جیبوں میں چلی گئی۔ دوسرے ان ممالک میں مستقل اڈے بھی حاصل ہوگئے۔ جس کی وجہ سے ان ممالک کے دفاع کے نام پر بے شمار سیاسی اور اقتصادی فوائد بھی انہیں حاصل ہوگئے، لیکن جیسے جیسے عرب ممالک میں تیل کے ذخائر ختم ہوتے جارہے ہیں، ویسے ویسے امریکا اور یورپ کی دلچسپی اس خطے میں کم ہوتی جارہی ہے۔ مزید یہ کہ تیل کی اہمیت بھی معیشت کےلیے کم ہوتی جارہی ہے۔ اب ساؤتھ چائنا سی اور سینٹرل ایشین ممالک میں ان کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔ جہاں توانائی کے محفوظ ذخائر موجود ہیں۔
جب تک امریکا اور یورپ کی دلچسپی اور مفادات اس خطے میں موجود تھے، اس وقت تک وہ کسی بھی بڑی جنگ کو روکنے کا سبب بنے رہے تھے، کیونکہ کسی بڑی جنگ کی صورت میں تیل کی ترسیل رکنے کا خطرہ بھی موجود رہتا تھا، مگر اب جبکہ دلچسپی کم ہوگئی ہے تو جنگ کے بادل بھی علاقے پر گہرے ہوتے جارہے ہیں۔
آج عربوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جنگ کے نام سے ہی کانپ جاتے ہیں کیونکہ جو آرام و آسائش انہیں اپنی دولت کی وجہ سے حاصل ہوگئی ہے، وہ انہیں کسی بھی جنگ میں کودنے سے باز رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جلد از جلد اسرائیل کو تسلیم کرکے کسی بھی ممکنہ جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس کےلیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن پاکستان و ترکی کی پالیسیاں اور فوجی طاقت ان دو ممالک کو اسرائیل کے خلاف کھڑا کررہی ہے۔ حالیہ بحران میں بھی پاکستان اور ترکی کے اقدامات نے اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ عرب ممالک کو تو اب اسرائیل کسی خاطر میں نہیں لاتا ہے۔
اب یہ خطہ صحیح معنوں میں ایک مذہبی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ اقتصادی اہمیت اس خطے کی اب وہ نہیں رہی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ دنیا کی آخری جنگ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہی لڑی جائے گی۔ دوسری طرف یہودی بھی چونکہ تمام دنیا کی معیشت پر قابض ہوچکے ہیں، اس لیے وہ بھی امریکا سے سپر پاور کا تاج چھین کر اپنے سر پر سجانا چاہتے ہیں۔ جس کےلیے وہ امریکا کو مختلف جنگوں میں دھکیل کر اسے اقتصادی طور پر اتنا کمزور کرنا چاہتے ہیں بلکہ تقریباً کر ہی چکے ہیں کہ امریکا میں سپر پاور بننے کی سکت ہی نہ رہے۔