ایک اور عوام دشمن بجٹ

206

تحریک انصاف نے اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جو 4کھرب خسارے کا بجٹ ہے۔ بجٹ میں 1230 ارب روپے کے نئے ٹیکس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا اور معاشی ترقی میں رکائوٹ پیدا ہوگی۔ 382ارب روپے کے نئے ٹیکس عوام کے لیے عذاب بن جائیں گے۔ تعلیم اور صحت کبھی بھی پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہے اور اس بجٹ میں بھی تعلیم اور صحت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے محض 66ارب اور صحت کے لیے 28ارب روپے مختص کیے ہیں۔ دفاعی بجٹ میں 74ارب کا اضافہ ہوا ہے اور دفاعی بجٹ ایک کھرب 373ارب تک جا پہنچا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کی اپنی تنخواہ 24لاکھ 41ہزار روپے طے کی گئی ہے اور کفایت شعاری کا نعرہ لگانے والے وزیر اعظم کے اپنے آفس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم آفس انٹرنل کے بجٹ میں ایک کروڑ 20لاکھ کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم آفس پبلک کے بجٹ میں 17 کروڑ 20لاکھ اضافہ تجویز کیا گیا ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے وزیر اعظم آفس انٹرل کے لیے چالیس کروڑ دس لاکھ تجویز کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم آفس پبلک کے لیے 52کروڑکا بجٹ تجویز کیا گیا ہے رواں مالی سال میں یہ بجٹ 34کروڑ 80لاکھ کا تھا۔ تنخواہوں اور پنشن میں دس فی صد اضافہ اور کم از کم اجرت 20ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے انقلابی بجٹ لانے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے تمام اعلانات ڈھکوسلہ ثابت ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کی وجہ سے غریب عوام جو پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہے تھے ان کے تمام خواب چکنا چور ہوگئے۔
ریاست مدینہ کے دعویدار خود تو اپنے دفتر کا بجٹ اور تنخواہ میں کئی گنا زیادہ اضافہ کر بیٹھے ہیں لیکن غریب عوام کو بھوک اور افلاس کے سوا دینے کو کچھ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے تیسرے بجٹ میں محنت کشوں کی کم از کم اجرت 20ہزار طے کر کے سابقہ حکمرانوں کی طرح بے حسی کا عملی ثبوت فراہم کیا ہے۔ وزیر اعظم صاحب آپ 20ہزار روپے میں کسی گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں تو آپ کی قابلیت کو مان لیا جا ئے گا۔ کٹے، انڈے، مرغی، لنگر خانوں، ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ مکانات بنانے کے اعلانات جو خیالی پلائو سے زیادہ اور کچھ ثابت نہ ہوسکے۔ اپنی حکومت کے اس تیسرے قومی بجٹ میں بھی وہ مہنگائی، بے روزگاری کے خاتمے اور قومی اداروں کی بحالی کا کوئی واضح پروگرام نہیں دے سکے۔ ملک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بے روزگاری سے تنگ آئے نوجوان مایوس ہو کر بیرون ملک جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حکومت نے غلط اعداد وشمار پیش کر کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔ اصولی طور پر تو اب ان سالانہ بجٹ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ حکومت پہلے تو ہر سہہ ماہی میں منی بجٹ پیش کرتی رہتی ہے لیکن اب تو ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ منی بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی اصل وجہ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ہولناک اضافہ ہے جو ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں قومی بجٹ ہمیشہ آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کی منشاء اور مرضی کے مطابق پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں عالمی مالیاتی اداروں کے ایجنٹ اور ان کے کارندے پاکستان کو قرضوں کے شکنجے میں جکڑ رہے ہیں۔ 8.5کھرب کے بجٹ سے 3.60 کھرب روپے سود اور قرضوں میں چلے جائیں گے۔ ایسے میں کیا ملک ترقی کرے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو ڈیسک بجا کر مبارک پیش کی اور پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے کہا کہ پہلے دوسال قوم کو مشکل بجٹ دیا تھا جو تکالیف تھی اب وہ ختم ہوگئی ہیں۔ قوم سے کہتا تھا کہ مت گھبرانا لیکن سارے گھبرا گئے اب ہم نے خوشحالی کا بجٹ پیش کیا ہے لوگوں کا ڈیٹا آگیا ہے اب آمدنی کے ذرائع معلوم کریں گے۔ دالیں خود اگائیں گے۔ بجٹ سے متعلق آئی ایم ایف کو اپنی شرائط پر قائل کر لیا ہے۔ دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگائی کم ہے۔ ادھر اپوزیشن جماعتوں سمیت تاجر برادری، ٹریڈ یونینز رہنمائوں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین نے بھی قومی بجٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان رہنمائوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ تقریر میں حکومت نے غلط اعداد وشمار پیش کیے ہیں اس بجٹ میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے کوئی واضح پروگرام نہیں ہے۔ بجٹ اجلاس کے موقع پر اپوزیشن نے بھی شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، خواتین ارکان کے ایک دوسرے پر حملے بھی ہوئے اور اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے، حکومتی خواتین اراکین نے حکومت مخالف پلے کارڈ چھین کر پھاڑ دیے۔ اس دھینگا مشتی سے عوام کو کبھی بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت با آسانی اپنے اتحادیوں کی مدد سے بجٹ پاس کرانے میں کامیاب ہوجائے گی اور پھر آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کے اختتام پر ایک اور منی بجٹ پیش کر دیا جائے گا۔ یہ تماشا کوئی نیا نہیں ہے۔ پاکستان کے حکمران جب تک عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے آزاد نہیں ہوںگے پاکستان کی معیشت مستحکم نہیں ہوگی اور نہ ہی ملک میں خوشحالی آئے گی۔
عمران خان کی حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے اور قوی امید ہے کہ وہ چوتھا اور پانچواں بجٹ بھی پیش کر دیں گے لیکن ان کا غریب عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی کی قیمتیں اسی طرح بلند سے بلند تر ہوتی جائیں گی۔ روٹی مہنگی اور گولی سستی ہوجائے گی۔ چہروں کی تبدیلی سے خوش ہونے والی قوم اب ان کے چہروں اور ان کے کرتوں کو بھی اچھی طرح جان اور پہچان گئی ہے۔ جب تک ہم سرمایہ دارانہ نظام سے جان نہیں چھڑائیں گے غریب عوام کے حالات تبدیل نہیں ہوسکیں گے۔ آج غریب آدمی علاج کے لیے ترس رہا ہے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اسپتالوں کے دروازوں پر دم توڑ رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم تو اب غریب کے بچے کے لیے ایک خواب بن گئی ہے۔ طبقاتی نظام کی وجہ سے آج اس ملک میں چپراسی کا بچہ چپراسی، کلرک کا بچہ کلرک، سپاہی کا بچہ سپاہی ہی بن رہا ہے۔ ہمیں اس نظام کی جانب جدوجہد کرنا ہوگی جب سپاہی کا بچہ بھی جرنیل اور سپہ سالار بنے اور کلرک اور چپراسی کا بچہ بھی ڈاکٹر اور انجینئر بن جائے ورنہ حکمراں تو اسی طرح آتے اور جاتے رہیں گے اور غریب عوام پر ظلم کرنے کے لیے ظالم اور غاصب بجٹ پیش کرتے رہیں گے اور ان بجٹ میں عوام کا استحصال اور ظلم کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔