ایک تھا حجام

277

آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتا رہا ہوں جو دیکھنے میں تو ایک بالکل سادہ سا اور عام سا انسان لگتا ہے مگر نجانے کیوں اس کی طرف دل خود بخود کھنچتا چلا جاتا ہے۔ چہرے پر سنت رسول سجی ہوئی۔ آنکھوں میں شرم و حیا کی لالی اور سرمہ کی سیاہی پھیلی ہوئی۔ گندمی رنگ۔ بل کھاتی ہوئی زلفیں۔ ہونٹوں پر تبسم اور اس میں سے جھانکتے ہوئے خوبصورت موتی جیسے دانت۔ چہرہ نوراً علیٰ نور کی تفسیر۔ خواہ مخواہ دوست بنانے کو دل چاہتا ہے۔
یہ غریب اور معصوم سا انسان ہمارے محلے میں حجام کی دکان کرتا تھا جو اس کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھی ہم بھی بال بنوانے اس کی دکان پر جاتے رہے اور اپنے پوتوں کی پیدائش پر اسی حجام سے بچوں کے عقیقے کے بال بھی اترواتے رہے۔ اکثر وہ احادیث سنایا کرتا تھا خود بھی پابند صوم و صلوٰۃ تھا اور دوسروں کو بھی تبلیغ اور تلقین کرتا رہتا تھا دین کے بارے میں بھی اس کی معلومات بہت اچھی تھیں حالانکہ وہ بہت پڑھا لکھا معلوم نہیں ہوتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ احباب اس بات سے اتفاق نہ کریں مگر اس حجام کا اصول یہ تھا کہ وہ صرف بال بناتا تھا اور ڈاڈھی کا خط۔ مگر ڈاڑھی مونڈھنے کے لیے تیار نہ تھا کہتا تھا جس کو کلین شیو کرانا ہے وہ میری دکان پر نہ آئے کیوں کہ اللہ کے رسولؐ نے ڈاڑھی منڈانے سے منع فرمایا ہے لہٰذا میں کسی اور کی ڈاڑھی مونڈھ کر اس گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتا اور اس اصول پر وہ آخر وقت تک قائم رہا یہاں تک کہ ایک دن جب میں اس کی دکان پر گیا تو میں نے اس کی دکان بند دیکھی لوگوں سے پتا کیا تو معلوم ہوا کہ وہ دکان ختم کرکے جا چکا ہے مجھے بڑی حیرت اور تشویش ہوئی۔
بالآخر ایک دن میری اس سے ملاقات سر راہ ہوگئی میں نے معلوم کیا تو اس نے بتایا کے محلے کے کچھ داداگیر قسم کے لوگ جو ایک سیاسی پارٹی سے وابستہ تھے اس کے پاس کلین شیو کرانے آئے مگر اس نے اپنے اصول کے مطابق ان کی کلین شیو کرنے سے منع کردیا۔ ان کو یہ بات ناگوار گزری انہوں نے دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور بالآخر اتنا تنگ کیا کہ وہ دکان بند کرنے پر مجبور ہو گیا۔ کچھ دن بیچارا مارا مارا پھرتا رہا۔ پھر ایک مدرسہ میں ملازم ہو گیا۔ اب اس سے ہماری ملاقاتیں کبھی کبھار اتفاقاً ہونے لگیں۔ وہ بھی ہمارا علاقہ چھوڑ کر کراچی کی ایک دور افتادہ کچی بستی میں منتقل ہوگیا۔
اس میں دین کی خدمت اور تبلیغ کا جذبہ تو موجود تھا ہی لہٰذا اس نے اسی کچی بستی میں چھوٹے سے گھر میں چھوٹے پیمانے پر اپنی ذاتی آمدن سے مدرسہ کا آغاز کیا۔ شروع شروع میں محلے کے چند بچوں نے ناظرہ پڑھنا شروع کیا اپنے مدرسے کو مکمل وقت دینے کے لیے اس نے دوسرے مدرسے کی نوکری بھی چھوڑ دی اور اس کار خیر میں ہمہ تن مشغول ہو گیا۔ جب اللہ کا بندہ اللہ کی رضا کے لیے اس کے دین کا کام شروع کرتا ہے تو اللہ بھی برکت دیتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کے کام میں حسب توفیق تعاون کرنا شروع کر دیا اس کا مدرسہ بھی ترقی کرتا چلا گیا اس کی بیوی بھی اس کام میں ہاتھ بٹانے لگی۔
اسی دوران اسے ایک رسالے میں اچھی نوکری مل گئی جہاں سے معقول آمدن شروع ہوگئی۔ اب یہ مدرسہ کے جی سے لے کر پانچ جماعت تک کے اسکول میں تبدیل ہو چکا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ناظرہ قرآن کی تعلیم بھی جاری ہے۔ اس طرح کے جی میں داخلہ لینے والا بچہ پانچویں کلاس پاس کرتے کرتے پورا قرآن شریف ناظرہ مکمل کر لیتا ہے۔ اس وقت تقریباً 60 بچے بچیاں زیر تعلیم ہیں۔ 4 خاتون اساتذہ اور دو قاری حضرات کی ٹیم کے ساتھ ہمارے دوست اس مدرسے کو بہت خوبصورتی سے چلا رہے ہیں یہ بستی چونکہ بہت ہی غریب لوگوں کی بستی ہے اور کچی آبادی ہے۔ زیادہ تر لوگ محنت مزدوری کرنے والے ہیں لہٰذا بچوں کے والدین بچوں کو مدرسے میں چھوڑ کر کام پر چلے جاتے ہیں اور شام کو چار پانچ بجے تک اپنے بچے آ کر واپس لے جاتے ہیں ظاہر ہے اتنا لمبا عرصہ تک بچے اسکول کا وقت ختم ہونے کے بعد مدرسے میں رہتے ہیں تو ان کے لیے ایک وقت کے کھانے کا بھی انتظام ہے اس مدرسے کی تعلیم بالکل مفت ہے یہاں تک کہ کاپیاں اور اسٹیشنری مدرسہ ہی دیتا ہے۔
گزشتہ دنوں اپنے دوست سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اسکول کا سالانہ فنکشن ہے جس میں بچوں کو اسناد دی جائیں گی اور ساتھ ہی پوزیشن والے بچوں کو انعامات بھی دیے جائیں گے اور ہمیں دعوت دی کہ تعاون کرنے والے اور لوگوں کے ساتھ آپ بھی تشریف لائیں اور اس فنکشن میں شریک ہوں ہم اس فنکشن میں اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے البتہ کچھ ضروری تعاون ضرور کر دیا۔ الحمدللہ فنکشن بہت اچھا رہا اور ہماری فرمائش پر ہمارے دوست نے فنکشن کی تصاویر بھی ہمیں بھیجیں دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔
ایک بندہ خدا نے تن تنہا صرف اللہ پر بھروسا کر کے کام کی ابتدا کی آج وہ مدرسہ اس پوری کچی آبادی جہاں تین ہزار سے زائد خاندان آباد ہیں علم کی شمع جلا رہا ہے۔ اس کا صلہ تو ان کو اس دنیا ہی میں مل گیا ان کا ایک بچہ حافظ قرآن بننے والا ہے اور ساتھ ہی عالم دین بھی۔ بچی عالمہ کا کورس کر رہی ہے باقی چھوٹے بچے اسی مدرسے میں زیر تعلیم ہیں۔ ان شاء اللہ آخرت کا ثواب بھی پکا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس مدرسہ کو ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے اور دن دونی اور رات چوگنی ترقی نصیب کرے۔ آمین ثمہ آمین