ایغور آبادی کم کرنے کی سازش

237

چین کے صوبے سنکیانگ میں سرکاری سطح پر ایغوروں کی آبادی کو کم کرنے کے منظم منصوبے کے نتیجے میں مسلمانوں کی آبادی ایک تہائی کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ صرف 2017ء سے 2019ء کے دوران مسلمانوں میں شرح پیدائش میں 48.7 فی صد کمی آئی ہے۔ اگلے 20 برس میں اس رفتار سے ایغوروں کی آبادی ایک تہائی کم ہوجائے گی۔ ایک جرمن ادارے کی تحقیق کے مطابق مسلمانوں کو پسماندہ بنانے کی سازش کی جارہی ہے جب کہ ایغوروں کے مقابلے میں وہاں کی آبادی بڑھانے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہیں تین بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اس طرح چند برس میں ان کی آبادی 25 فیصد بڑھ جائے گی۔ چین ایغور مسلمانوں کے ساتھ ایسا کرنے والا واحد ملک نہیں ہے۔ پوری دنیا میں اس غلط فہمی ہے کہ آبادی بڑھانا اور کم کرنا اس کے اختیار میں ہے۔ چنانچہ یہ کام اسرائیل فلسطین میں فلسطینیوں کے خلاف کررہا ہے، بھارت کشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ کررہا ہے، میانمار میں اراکان مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک ہورہا ہے۔ بوسنیا میں عیسائی قسائی میلوسووک یہ کام کرچکا ہے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرکے اس نے یہ سمجھا کہ مسلم آبادی کم کردی جائے گی۔ امریکا، روس، برطانیہ اور ناٹو ممالک افغانستان، عراق، شام وغیرہ میں بمباری کے ذریعے مسلم آبادی کو کم کرنے میں مصروف ہیں لیکن دنیا کے فیصلے جہاں ہوتے ہیں وہ امریکی برطانوی یا چینی حکمرانوں کے ایوان نہیں ہوتے۔ وہ پاکستانی حکمرانوں کے اجلاس نہیں ہوتے ہیں جو چین کے معاملات کو بڑی ڈھٹائی سے اس کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہیں اور کشمیریوں اور فلسطین کو اسرائیل کا معاملہ بلکہ یہ فیصلے اللہ کے نظام کا حصہ ہیں جس میں اکثر یت کی حیثیتنہیںہوتی۔مسلم امہ کے حکمران اور ریاست مدینہ کے دعویداروں کو کچھ شرم و حیا کرنی چاہیے اور امت کے پسے ہوئے طبقات کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔