سوئی سدرن نے نیا ناظم آباد فلڈ لائتس فٹبال ٹورنامنٹ جیت لیا

73

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سوئی سدرن گیس کمپنی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک گول سے شکست دے کر نیا رمضان فٹبال ٹورنامنٹ جیت لیا۔ نیا ناظم آباد کے سرسبز فٹبال گراونڈ پر برقی قمقموں کی روشنی میں سوئی سدرن گیس اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان مقابلہ ابتدا سے ہی جارحانہ رہا۔ دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف گول کرنے کی متعدد کوشش کی لیکن وہ ناکام ثابت ہوئیں۔ پہلا ہاف بغیر کسی گول کے اختتام پذیر ہوا۔ کھیل کے 82 ویں منٹ میں عبدالوحید نے گول داغ کر اپنی ٹیم کو برتری دلائی جو مقررہ وقت تک برقرار رہی۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان ہاکی ٹیم کے سباق کپتان فلائینگ ہارس سمیع اللہ خان ، اعزازی مہمان مینجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی عمران منیار، ٹورنامنٹ کے سرپرست اعلی چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیا ناظم آباد صمد حبیب، صدر نیا ناظم آباد جمخانہ سید محمد طلحہ، ٹورنامنٹ ڈائریکٹرناصر اسماعیل اور دیگر نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ فاتح ٹیم کو ایک لاکھ روپے اوررنرز اپ کو75 ہزار روپے دیے گئے۔ محمد ذین کو فائنل کا مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ عبدالوحید 11 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر قرار پائے۔ خیبر مسلم کی ٹیم نے فیئر پلے ٹرافی حاصل کی۔ محمد یوسف نے ایونٹ کے بہترین ریفری کا انعام جیتا۔ مہمان خصوصی سمیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ نیاناظم آباد میں کھیلوں کی سہولیات دیکھ کر انہیں بے انتہا خوشی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے اسپورٹس انفرا اسٹرکچر اور سخت محنت کی ضرورت ہے۔ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلٹ ہے بس ان کی سرپرستی ہونی چاہیے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر عمران منیار نے صدام حسین کی قیادت میں ٹائٹل جیتنے والی اپنی ٹیم کو مبارک باد دی انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ادارہ کھلاڑیوں کی سرپرستی جاری رکھے گا۔ ٹورنامنٹ کے سرپرست اعلی اور نیا ناظم آباد کے سی ای او صمد حبیب کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ نیا ناظم آباد کو اسپورٹس سٹی بنائیں جس کے لیے مختلف کھیلو ں کا انفرا اسٹرکچر قائم کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب صدرانجینیئر سید محفوظ الحق، امتیاز شیخ، انٹرنیشنل ہاکی پلیئر مبشر مختار، منیجر اسپورٹس محمد آصف سمیت شائقین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔