عدالت عظمیٰ سندھ میں 140 اے نافذ کرے،وفاقی حکومت

159
کراچی: فواد چودھری سے پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کا وفد ملاقات کررہا ہے چھوٹی تصویر میں وفاقی وزیر پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ سے سندھ میں آرٹیکل 140 اے نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا۔گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا کہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں سندھ میں گورنر راج لگادیں لیکن آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ،آرٹیکل 140اے کا نفاذ ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے سندھ کو اس کا حق مل سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، ہر 5سال بعد پیپلز پارٹی سے کسی ایک شخص کو ربڑ اسٹیمپ کے طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں بٹھا دیا جاتا ہے، اس کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، سارا اختیار ان کے پاس ہے جو سندھ اسمبلی میں نہیں بلاول ہاوس میں بیٹھتے ہیں، سندھ کے اضلاع کو فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے، زرداری خاندان نے سندھ اسمبلی کو مفلوج کر دیا ہے، وفاق سے اتناپیسہ ملنے کے باوجود سندھ حکومت اب تک اپنا محکمہ پولیس بھی ٹھیک نہ کرسکی، اور ہر سال وفاق کی منت کرتی ہے کہ رینجرز کو صوبے میں رہنے دیا جائے، کراچی پولیس میں اتنی اہلیت نہیں کہ امن بحال کرے،بلوچستان کے بی ایریاز جہاں باضابطہ انتظامیہ موجود نہیں وہاں کے حالات بھی کراچی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بہتر ہیں، کراچی میں جس کا دل چاہتا ہے گاڑی روک کر لوٹ لیتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وفاق نے سندھ کو 3 سال میں 1800 ارب روپے دیے گئے، اس بجٹ میں بھی سندھ کا حصہ 700ارب سے بڑھا کر 750ارب روپے گیا ہے، ان کے پاس اتنا پیسہ آیا لیکن وہ کہاں گیا؟ کہیں کام نظر نہیں آتا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور صحت کا نظام تباہ ہے، گزشتہ چند سال میں لاڑکانہ پر 90 ارب روپے خر چ ہوچکے لیکن کام نظرنہیں آرہا، بدین، گھوٹکی اور دیگرعلاقوں کے نام پر بھی وفاق سے بڑی رقم لی جاتی ہے لیکن وہاں کام نہیں ہوتا ہے، لاڑکانہ ، گھوٹکی ، بدین اور دیگر اضلاع کا حال دیکھ لیں،کراچی کو پیسہ مل نہیں رہا،سندھ کے مسائل حل نہیں ہورہے،تو یہ پیسہ جا کہاں رہا ہے؟ من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دے کر سندھ کو کب تک چلایا جائے گا؟فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سندھ میں پرانی اسکیمیں مکمل نہیں ہوئی تو نئی اسکیمیں کیسے رکھیں،یہ چاہتے ہیں کہ اسکیم ملے، اپنے ٹھیکیدار سے شروع کروائیں اور بھول جائیں ، یہ چاہتے ہیں کہ پیسہ براہ راست ان کو ملے اور ہم چاہتے ہیں کہ پیسہ براہ راست عوام پر لگے،یہ پیسہ سندھ میں نہیں بلکہ دبئی میں لگاتے ہیں۔وفاقی وزیر کے بقول سندھ کے عوام کا پانی پنجاب نہیں بلاول،مراد علی شاہ اور سندھ کابینہ کے لوگ چوری کر رہے ہیں، آصف زرداری اور ان کی بہن کی زمینوں کا پانی تو کبھی کم نہیں ہوا، غیرجانبدار مبصرین کو لگانے دیں پتا چل جائے گا کہ کتنا پانی آیا اور کتنا پانی کا اخراج ہوا، وزیراعلیٰ سندھ قوم پرست سیاست کررہے ہیں، وہ خود کو بے نظیر اورذوالفقار بھٹو کی سیاست سے الگ کررہے ہیں، سب سے زیادہ پلی بارگین کے کیسز سندھ کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور کراچی کے شہریوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے پورا ملک تکلیف برداشت کرتا ہے، وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کو 500 میگا واٹ اضافی بجلی فراہم کی، جس کی وجہ سے شدید گرمی میں کراچی والوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ملک میں اس سال گندم، چاول اور مکئی کی ریکارڈ فصل ہوئی، کورونا کے باوجود پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم رہی، حکومت نے اس بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں بھی کمی کی، موبائل ڈیٹا اور کالز پر ٹیکس کو بھی مسترد کردیا گیا ہے، بجٹ میں کم سیکم تنخواہ 20 ہزار کردی ہے، رواں سال پاکستان کی گروتھ اور عام آدمی کی بہتری کا سال ہوگا، خوشی ہے پاکستان کے تمام طبقوں نے بجٹ کو بہترکہا لیکن (ن) لیگ ہر چیز کو پڑھے بغیرمسترد کردیتی ہے، انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے حقارت کے ساتھ مسترد کردیا اور احسن اقبال نے کہا کہ اوورسیز کو پاکستانی مسائل کا ادراک نہیں ہے، نوازشریف، اسحاق ڈار اوران کے بیٹے بھی تو اوورسیز ہیں، ان کے بارے میں کیا خیال ہے، اوورسیز پاکستانی ملک سے پیسہ باہر نہیں لے کرجاتے بلکہ باہر سے اپنے ملک بھیجتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق جو ریمارکس دیئے گئے ہیں اس کی مذمت کرتاہوں، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، سعدرفیق اور دیگر لیگ رہنما خطاطی سیکھیں اور قلم دوات لے کر لکھا کریں حکومت نامنظور، اس سے ان کا بینرز کا خرچہ بچے گا۔