عدالت عالیہ لاہور کا صائب فیصلہ مگر…

204

عدالت عالیہ لاہور نے حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت اسلام مخالف مواد کو روکنے اور پوری دنیا میں اسلامی مستند ویب سائٹس کو عام کرنے کے لیے اقدامات کرے، عدالت عالیہ کے منصف اعلیٰ جسٹس قاسم خاں نے یہ حکم توہین آمیز خاکوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا، منصف اعلیٰ نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اور اسلامی قوانین اور اسلامی نظریۂ حیات کو فروغ دینا ہماری ذمہ داری ہے، حکومت از خود قرآن و حدیث کی تعلیمات کی اشاعت کے لیے ویب سائٹ بنائے، تاہم ایسی ویب سائٹ بناتے وقت تمام مکاتب فکر کے علماء کو بورڈ میں شامل کیا جائے تاکہ جو لوگ انٹر نیٹ کے ذریعے اسلامی تعلیمات حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو ایک مستند ویب سائٹ مل جائے، عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں معاملہ کے دوسرے پہلو سے متعلق بھی ہدایات جاری کر دی ہیں، کہ اگر کسی ویب سائٹ پر اسلامی تعلیمات میں تحریف ہو تو ان کی نشاندہی کی جائے، قادیانیت یا ایسے لوگ جن کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، ان کی جانب سے کوئی تحریف ہو یا کوئی بھی گروہ اسلامی تعلیمات میں تحریف کرے، اس کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف آئین اور متعلقہ قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج کیا جائے جو باتیں قوانین کے تحت جرم ہیں، ان کے خلاف حکومت اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروائے، یہ کہنا کہ پرائیویٹ افراد آ کر مقدمہ درج کرائیں، یہ قانون کے خلاف ہے، عدالت نے وفاقی کابینہ کو حکم دیا کہ وہ اس معاملہ کو دیکھے اور ایک مکمل ادارہ بنایا جائے جو دنیا میں پراگراموں کو مانیٹر کرے اور مشکوک پروگرام فوری طور پر علماء کے بورڈ کو بھجوایا جائے۔ عدالت عالیہ لاہور کا یہ حکم نہایت جامع، جان دار اور واضح ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں، عدالت عالیہ کا یہ حکم جہاں حکومت کو اس کی ایک اسلامی اور جمہوری مملکت کی حکومت کی حیثیت سے اس کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے وہیں عدالت اپنے فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے واضح ہدایات بھی اور لائحہ عمل بھی فراہم کرتی ہے، اب حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حکم پر عملی پیش رفت کے لیے عدالت ہی کی ہدایات کی روشنی میں وفاقی کابینہ میں معاملہ کو زیر غور لا کر ٹھوس عملی اور فیصلہ کن اقدامات طے کرے جن پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ مشینری اور سرکاری محکموں کو بھی متحرک کیا جائے تاکہ عدالت کا یہ نہایت صائب فیصلہ تشنئہ تکمیل نہ رہ جائے اس ضمن میں ہم عدالت عالیہ اور اس کے محترم منصف اعلیٰ سے بھی درخواست کریں گے کہ اس فیصلہ اور اسی قسم کے اپنے دیگر اہم نوعیت کے فیصلوں اور احکام کو عملی جامہ پہنائے جانے کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی سطح پر مانیٹرنگ کا ایک باقاعدہ نظام اور ذیلی ادارہ تشکیل دیا جائے جو اس کا جائزہ لیتا رہے کہ حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے عدالتی احکام اور فیصلوں پر عملد درآمد کی رفتار کیا ہے اور اس ضمن میں جس سطح پر بھی سستی، کاہلی، نا اہلی یا جان بوجھ کر عدم اطاعت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہو تو اس کے ازالہ کے لیے موثر اقدامات خود عدالت کی طرف سے کئے جائیں تاکہ عوام کو بروقت انصاف مل سکے اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے محض الماریوں کی زینت بن کر نہ رہ جائیں جس کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اور ایک نمایاں مثال اردو کو ملک کی قومی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کرنے کا معاملہ ہے، ہم نے ستر برس قبل انگریز سے آزادی تو حاصل کر لی تھی مگر انگریزی سے آزادی ہمیں پون صدی گزرنے کے بعد بھی نصیب نہیں ہو سکی حالانکہ بانی پاکستان نے خود دو ٹوک الفاظ میں قیام پاکستان کے فوری بعد یہ ارشاد فرمایا تھا کہ نئی مملکت کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہو گی، ہمارے آئین میں بھی اردو کے قومی، سرکاری اور دفتری زبان کی حیثیت سے نفاذ کا واضح فیصلہ موجود ہے مگر آئین کو نافذ ہوئے نصف صدی ہونے کو آئی ہے لیکن اردو کے نفاذ کی نوبت ابھی تک نہیں آ سکی، بات عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی ہو رہی تھی تو اس ضمن میں بھی ملک کی عدالت عظمیٰ پانچ چھ سال قبل اردو کو قومی، سرکاری اور دفتری زبان کی حیثیت سے رائج کرنے کا حکم دے چکی ہے عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں عمل درآمد کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر کی تھی مگر اسے ملک و قوم کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ اس فیصلے پر آج تک اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو سکا، ہمارے مقابلے کے وفاقی و صوبائی تمام امتحانات ابھی تک انگریزی میں لئے جا رہے ہیں، تمام سرکاری دفاتر میں آج بھی انگریزی ہی خط و کتابت اور ہدایت کے زبان کے طور پر مسلط ہے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ملک کی ماتحت عدالتوں سے اعلیٰ ترین عدالت تک تمام کارروائی آج تک انگریزی ہی میں جاری ہے، محترم جج صاحبان اپنے فیصلے انگریزی ہی میں سناتے اور تحریر فرماتے ہیں، اس ضمن میں ہمدردان اردو کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کئے جانے کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں مگر ان پر بھی خاطر خواہ کارروائی تاحال سامنے نہیں آ سکی بات بڑی سیدھی سی ہے کہ ’’چوں کفر از برخیزد، کجا مانند مسلمانی۔‘‘ جب ملک کا سارا عدالتی نظام ہی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی پر کمربستہ ہو تو ’’توہین عدالت‘‘ کی کارروائی کون اور کس کے خلاف کرے گا…؟؟؟ اس لئے ہماری عدالت عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ کے منصف اعلیٰ کے منصب پر موجود تمام محترم جج صاحبان سے گزارش ہے کہ وہ یا تو ایسے فیصلے دیا ہی نہ کریں جن پر عملدرآمد ممکن نہ ہو یا پھر اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر اور کارگر نظام ضرور وضع کریں تاکہ عدلیہ اور اس کے فیصلوں کو بے وقعت ہونے سے بچایا جا سکے…!!!