“مصنوعی اعشاریوں پر مشتمل بجٹ کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں”

211

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق  کا کہنا ہےکہ مصنوعی اعشاریوں پر مشتمل بجٹ کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، بجٹ تقریر سے کہیں ایسا نہیں لگا کہ معیشت گروتھ کی جانب جائے گی۔

سراج الحق نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد حکومت منی بجٹ لائے گی، بجٹ میں زراعت کے لیے صرف 112ارب روپے مختص کیے گئے، ایگری کلچر سیکٹر میں جدیدیت اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے یہ رقم ناکافی ہے۔

 امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ریلوے، پی آئی اے اور دیگر وفاقی اداروں کی بحالی کے لیے کوئی پروگرام نہیں دیا گیا،  حکومت قومی اداروں کو اونے پونے داموں بیچنا چاہتی ہے۔

سراج الحق نے مزید کہاکہ بیرونی قرضوں کے پہاڑ نے قوم کی کمر توڑ دی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 30فیصد اضافہ ہونا چاہیے تھا،ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ مزدور کی کم از کم اجرت 30ہزار مقرر کی جائے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے کوئی واضح پروگرام نہیں دیا گیا،مجموعی بجٹ میں سے 3ہزار 60ارب روپے سود کی ادائیگی میں چلے جائیں گے،بجٹ پی ٹی آئی کے منشور اور وعدوں کی تکمیل پر بالکل خاموش ہے۔