سعودیہ: غیر شادی شدہ خواتین کو تنہا رہنے کی سرکاری اجازت

211

سعودی حکومت بااختیار خواتین کی پالیسی کے تحت غیر شادی شدہ ، طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین کو کسی بھی سرپرست یا ولی کی رضامندی کے بغیر تنہا رہنے کی اجازت دینے جارہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عدالتی حکام نے قانون کے آرٹیکل 169 کے پیراگراف بی کو ختم کردیا ہے۔ اس ترمیم سے خواتین کو اپنی الگ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہوگا۔

ترمیم شدہ قانون میں کہا گیا ہے کہ “ایک بالغ عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں رہنا چاہے۔ اگر کسی عورت کو قید ہے تو سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے اپنے سرپرست کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

عورت کا سرپرست صرف اس وقت دخل اندازی کرسکتا ہے جب عورت نے کوئی جرم کیا ہو جس کی اطلاع حکام کو دی جائے گی۔

ایک مقامی اخبار نے سعودی وکیل نائف المنصی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اہلخانہ اب اپنی بیٹیوں کے الگ اور تنہا رہنے کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے شروع میں سعودی حکومت اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر 18 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین کو اپنے شناختی کارڈ پر اپنا نام تبدیل کرنے کی اجازت بھی دے چکی ہے۔