دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بلند ترین سطح پر جا پہنچا

229

دنیا کی آب و ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ جو کہ صنعتی دور کی ابتداء سے 50٪ سے زیادہ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ماحولیاتی کارب ڈائی آکسائڈ میں اوسطا اضافے کی شرح پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ہورہی ہے۔

قومی سمندری اور ماحولیاتی انتظامیہ NOAA نے بتایا کہ مئی میں اوسطاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح 419.13 پارٹس فی ملین تھی۔ آب و ہوا کے سائنسدان پیٹر ٹین نے کہا کہ یہ مئی 2020 کے مقابلے میں 1.8 پارٹص فی ملین سے زیادہ ہے اور 280 پارٹص کی مستحکم پری انڈسٹریل سطح سے 50٪ زیادہ ہے۔

شمالی نصف کرہ کے پھولوں اور پودوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی سطح مئی میں عروج پر ہوتی ہے مگر یہ بحالی عارضی ہے ، کیوں کہ نقل و حمل اور بجلی کے لئے کوئلے ، تیل اور قدرتی گیس سے جلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج پودوں کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے جس سے ہر سال گرین ہاؤس گیس کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کورنیل یونیورسٹی کے آب و ہوا کے سائنسدان نٹالی مہوالڈ نے کہا ،”50 فیصد زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ تک پہنچنا واقعی ایک خطرناک بات ہے۔ اگر ہم آب و ہوا کی تبدیلی کے بدترین نتائج سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو ختم کرنے کے لئے ابھی سے زیادہ سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔”