کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی کا اورنگی ٹاﺅن میں دھرنا

41

کراچی(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کے تحت شہر میں سخت گرمی میں بد ترین لوڈشیڈنگ ، بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ بندش، کے الیکٹرک کی نا اہلی وناقص کارکردگی اور وفاقی حکومت اور نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کی مسلسل سر پرستی کے خلاف بدھ کو ضلع غربی کے تحت شاہراہ اورنگی ٹاﺅن پونے پانچ نمبر میں احتجاجی دھرنا دیا گیا ۔ دھرنے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، ضلع غربی کے امیرمدثر حسین انصاری ،، نائب امیر ضلع خالد زمان، قیم ضلع عبدالحنان، سابق چیئرمین و جنرل سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی ضلع غربی عبد القیوم ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ دھرنے کے شرکاءنے کے الیکٹرک ، وفاقی حکومت اور نیپرا کی ملی بھگت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور پر جوش نعرے لگائے ۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اُٹھائے ہوئے تھے۔ احتجاجی مہم کے سلسلے میں اگلا دھرنا کل بروزجمعہ 11جون کو ضلع ائر پورٹ کے تحت اسٹار گیٹ پر ہو گا جبکہ 12جون کو کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر دھرنا دیا جائےگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی ختم کریں اور معاہدے کے مطابق پیدواری صلاحیت میں اضافہ نہ کرنے پر کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرے اور اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے ۔ 12 جون کو کے الیکٹرک کے ملک دشمن اور کراچی دشمن ایجنڈے کو بے نقاب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی جا رہی دوسری طرف اوور بلنگ کی شکایات بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت اور گورنر نے کے الیکٹرک کی مزید سرپرستی کرتے ہوئے 200 میگاواٹ بجلی فراہم کر دی، بتایا جائے تمام تر دعووں کے باوجود15مارچ سے شروع ہونے والا 900 میگاواٹ کا بن قاسم پلانٹ تھری اب تک کیوںشروع نہ ہوسکا، 1400 میگاواٹ بجلی NTDC کی طرف سے کس معاہدے کے تحت کے الیکٹرک کو فراہم کی جارہی ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ کے ا ی ایس سی کی نجکاری کے بعد 16سال گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک کا سارا دارومدار NTDCاورIPPsسے حاصل کردہ بجلی پر ہے،اس دوران کے الیکٹرک بجلی کی پیداوار میں اب تک صرف11 فیصد اضافہ کرسکا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایک پرائیوٹ کمپنی کو اربوں روپے کی سالانہ سبسڈی دیتی ہے ۔ وفاقی حکومت اور نیپرا نے اب تک کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ افسوس کی بات ہے کہ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور نیشنل گرڈسے مزید بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ تمام حکومتیں کے الیکٹرک کے ساتھ ملی ہوئی ہیں ،ایمان دار وزیر اعظم عمران خان کے الیکٹرک پر واجب الاداءرقم 500 سو ارب روپے معاف کروانا چاہتے ہیں۔ اہلیان اورنگی گھر گھر جاکر عوام سے رابطہ کریں اور 12 جون کو کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس پر دھرنا دینے کے لیے جمع کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی کو آدھا گنا گیا اور کراچی کے حقوق کا استحصال کیا گیا۔ شہر سے مینڈیٹ لینے والوں نے CCI میں کراچی کی آبادی کو ڈیڑھ کروڑ کے طور پر منظور کروادیا۔ اسد عمر نے نئی مردم شماری کا اعلان کیا اور چھ ہفتے میں کام مکمل کرنے کا کہاتھا لیکن چھ ہفتے سے زائد وقت گزر گیا اور نئی مردم شماری کا کام شروع نہیں ہو سکا۔ 2005 کے بعد سے اب تک گرین لائن منصوبہ اور K4 منصوبہ مکمل نہ ہوسکا ۔کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی نے اہلیان اورنگی اور گجر نالے کے ڈبونے کے سوا انہوں نے کیا کام کیا؟ حکومت بتائے کراچی کے ترقیاتی بجٹ میں 3 ارب روپے رکھے گئے بتایا جائے کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی؟ مدثر حسین انصاری نے کہا اہلیان اورنگی منتخب نمائندوں کے رحم و کرم پر ہے۔اورنگی کے عوام منتخب نمائندوں کو تلاش کرتے ہیں لیکن منتخب نمائندے عوام کی دست رس سے دور ہیں۔ 60 گز کے مکان پر ہزاروں روپے کا بل بھیج دیا جاتا ہے۔شکایات کرنے پر بل کی قسطیں تو کی جاتی ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں کیا جاتا۔ اہلیان اورنگی بجلی کے ساتھ ساتھ پانی کی بوند بوند کو بھی ترس رہا ہے۔اورنگی ٹاﺅن کے لوگوں کی بجلی ، پانی نہ ملنے کے باعث زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔
حافظ نعیم